نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد میں تین مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مار کر 212 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق کارروائیاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کی گئیں اور ان کا تعلق مبینہ بین الاقوامی آن لائن فراڈ کے خلاف جاری تحقیقات سے بتایا گیا ہے۔
ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون نے این سی سی آئی اے کے ترجمان اور سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسلام آباد یونٹ نے ایسے کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جن پر مختلف نوعیت کے آن لائن فراڈ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ایجنسی کے مطابق کارروائیوں کے دوران 306 موبائل فون، 383 کمپیوٹر یا سی پی یو اور 299 مانیٹر اور لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے۔ یہ اشیا تفتیشی مواد کے طور پر قبضے میں لیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ گرفتاری یا حراست بذاتِ خود کسی جرم میں قصور ثابت نہیں کرتی۔ دستیاب رپورٹس میں ان افراد کے خلاف انفرادی سطح پر الزامات، فردِ جرم یا عدالتی فیصلوں کی مکمل تفصیل موجود نہیں۔ این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ کارروائی منظم سائبر فراڈ کے خلاف تحقیقات کا حصہ ہے، تاہم ہر زیرِ حراست شخص کی قانونی ذمہ داری متعلقہ تفتیش اور عدالتی عمل کے بعد ہی طے ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں آن لائن مالی فراڈ، جعلی سرمایہ کاری اسکیموں، فشنگ اور بیرون ملک صارفین کو نشانہ بنانے والے کال سینٹرز کے خلاف حالیہ عرصے میں وفاقی سطح پر کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ این سی سی آئی اے کو سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے مرکزی وفاقی ادارے کے طور پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ اسلام آباد کی تازہ کارروائی اسی وسیع تر نفاذی مہم کا حصہ بتائی گئی ہے۔
رپورٹس میں چھاپوں کے مقامات کے مکمل پتے، گرفتار افراد کی قومیتوں کی تفصیلی فہرست یا مبینہ فراڈ سے ہونے والے مالی نقصان کا حتمی تخمینہ فراہم نہیں کیا گیا۔ اس لیے خبر میں صرف ان حقائق کو شامل کیا گیا ہے جن کی تصدیق متعدد معتبر پاکستانی ذرائع نے کی ہے۔

