کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پی ای سی ایچ ایس کے علاقے میں دو کال سینٹرز پر چھاپوں کے دوران 70 سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق ایجنسی نے دونوں مراکز کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کیے اور مجموعی طور پر 79 افراد کو نامزد کیا، جن میں ایک مقدمے میں 48 اور دوسرے میں 31 افراد شامل ہیں۔ کارروائی میں نامزد افراد پر پیکا اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

NCCIA کے ترجمان کے مطابق دونوں کال سینٹر ایک ہی تنظیم کے زیر انتظام چل رہے تھے اور رہائشی عمارتوں میں قائم ہونے کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں کی نشاندہی مشکل تھی۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ وہاں کام کرنے والے افراد امریکی شہریوں کو نئی کریڈٹ کارڈ سہولت، کم شرح سود اور دوسری مالیاتی خدمات کی پیشکش کے نام پر رابطہ کرتے اور مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے طریقے استعمال کرتے تھے۔ یہ الزامات ابھی تفتیش اور عدالتی عمل کے مراحل میں ہیں، اس لیے گرفتار یا نامزد افراد کو کسی جرم کا مجرم قرار نہیں دیا گیا۔

ایجنسی نے کارروائی کے دوران کمپیوٹر سسٹمز، مواصلاتی ریکارڈ اور ایک فعال کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ (CRM) نظام قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ نظام امریکی صارفین سے متعلق معلومات محفوظ کرنے، رابطوں کا ریکارڈ رکھنے اور مبینہ طور پر چلائی جانے والی مالیاتی اسکیموں کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ تحقیقات میں ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک جائزہ، کال لاگز اور مالیاتی روابط کی جانچ اہم مرحلے ہوں گے۔

سائبر کرائم کے مقدمات میں اس نوعیت کے ڈیجیٹل ریکارڈ کی قانونی حیثیت، برآمدگی کا طریقہ اور ملزمان کے مخصوص کردار کی وضاحت عدالت میں اہم ہوتی ہے۔ NCCIA نے کہا ہے کہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور نیٹ ورک سے منسلک دوسرے کرداروں یا مالیاتی چینلز کا سراغ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر ایجنسی کے بیان میں مبینہ مالی نقصان کی حتمی رقم یا متاثرہ امریکی شہریوں کی مصدقہ تعداد نہیں بتائی گئی۔

پاکستان میں بین الاقوامی آن لائن فراڈ اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں حالیہ برسوں میں سائبر کرائم اداروں کی ترجیح رہی ہیں۔ تازہ چھاپوں کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ ایجنسی نے ایک فعال CRM نظام قبضے میں لینے اور دو الگ مقدمات میں بڑی تعداد میں افراد نامزد کرنے کی اطلاع دی ہے۔ مقدمات کا نتیجہ تفتیش، ڈیجیٹل فرانزک اور بعد کے عدالتی عمل سے طے ہوگا۔