اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو انگلینڈ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق جاری تحقیقات میں 2 اکتوبر کو دوبارہ پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ دستیاب نوٹس کے مطابق انہیں جمعہ کو سہ پہر 3 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے نے دوسرے نوٹس میں محمد رضوان سے اس موبائل فون کے فرانزک معائنے اور تجزیے کے لیے تعاون طلب کیا ہے جو تفتیشی ادارے نے ان سے حاصل کیا تھا۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ عدم حاضری کی صورت میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کھلاڑی کے پاس اپنے دفاع یا وضاحت میں پیش کرنے کے لیے مزید کچھ نہیں۔ یہ معاملہ فی الحال تفتیش کے مرحلے میں ہے اور دستیاب معلومات میں محمد رضوان کے خلاف کسی جرم کے ثابت ہونے یا کسی عدالتی فیصلے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

محمد رضوان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ مقررہ وقت پر اپنے وکیل کے ہمراہ این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کی جانب سے پہلے تحقیقات کی تحریری تفصیلات مانگی گئی تھیں اور موبائل فون واپس کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ ذرائع نے یہ موقف بھی بیان کیا کہ دوسرے نوٹس میں ان مطالبات کا جواب نہیں دیا گیا۔

رپورٹ میں این سی سی آئی اے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تفتیش کاروں نے رواں ہفتے رضوان سے متعدد بار رابطہ کرنے اور تحقیقات میں تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ادارے کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعض مواقع پر رابطہ نہیں ہو سکا اور بعض مواقع پر رضوان نے وکیل سے مشورے کے بعد جواب دینے کی بات کی۔ دوسری جانب رضوان سے منسوب ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پیشی کے دوران اپنے خلاف لگائے گئے الزامات اور مبینہ عدم تعاون کے دعوے کی تفصیلات بھی پوچھیں گے۔

تحقیقات کا تعلق انگلینڈ سیریز کے دوران قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم سے مبینہ طور پر معلومات باہر جانے کے معاملے سے بتایا گیا ہے۔ چونکہ معاملہ تفتیشی مرحلے میں ہے، اس لیے نوٹس، فون کا فرانزک تجزیہ اور فریقین کے بیانات کو کسی حتمی ذمہ داری یا قصور کے تعین کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ مزید قانونی یا انتظامی پیش رفت رضوان کی پیشی اور این سی سی آئی اے کی تحقیقات کے نتائج پر منحصر ہوگی۔