اسلام آباد: انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو بتایا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ کیمبرج امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک کا آغاز پاکستان سے ہوا تھا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ بریفنگ قائمہ کمیٹی کے 26ویں اجلاس میں دی گئی، جس کی قائم مقام صدارت رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کی۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے کو بیرونِ ملک موجود سرورز تک براہِ راست رسائی حاصل نہیں، اس لیے اگر کوئی مبینہ لیک غیر ملکی سرور کے ذریعے ہوا ہو تو ایجنسی کے لیے اس کے اصل مقام، ذریعے اور طریقہ کار کا آزادانہ تعین محدود ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر حکام کا نتیجہ یہ تھا کہ دستیاب جانچ میں پاکستان کو لیک کا ماخذ ثابت کرنے والا مواد سامنے نہیں آیا۔ یہ نتیجہ اس بات کے مترادف نہیں کہ کسی دوسرے ملک یا نظام میں لیک ہونے یا نہ ہونے کا قطعی تعین کر لیا گیا ہے۔

اجلاس میں تعلیمی اداروں کے اندر منشیات کے استعمال اور سپلائی کے بڑھتے ہوئے خدشات بھی زیرِ بحث آئے۔ کمیٹی نے اینٹی نارکوٹکس فورس، پولیس، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی نظامتِ تعلیم کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کا طریقہ بنانے پر زور دیا تاکہ طلبہ تک منشیات پہنچانے والے ذرائع کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے رپورٹ شدہ کیسز، کی گئی کارروائی، باہمی رابطے کے طریقہ کار اور ذمہ دار قرار پانے والے افراد کو دی گئی سزاؤں کا تصدیق شدہ ڈیٹا بھی طلب کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات اور تمباکو کے استعمال کی نگرانی کے لیے اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ اراکین نے کہا کہ محض کمیٹیوں یا پالیسیوں کا قیام کافی نہیں ہوگا اور عملی نفاذ، مسلسل نگرانی اور واضح کارروائی ضروری ہے۔

وفاقی تعلیمی بورڈ نے اجلاس کو ڈسلیکسیا کے شکار طلبہ کے لیے امتحانات میں اضافی وقت اور سوال نامہ پڑھنے میں مدد سمیت سہولتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اس طرح اجلاس میں کیمبرج امتحانات سے متعلق سائبر تحقیق کے ساتھ تعلیمی اداروں کی سلامتی اور خصوصی تعلیمی ضروریات کے مسائل بھی زیرِ غور آئے۔