کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں آٹے کی دستیابی بہتر بنانے اور قیمتوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے یکم اکتوبر 2026 سے فلور ملز کو سرکاری ذخائر سے گندم جاری کرنا شروع کی جائے۔ ریڈیو پاکستان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعلیٰ نے کراچی میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گندم کے سرکاری ذخائر، ضبط شدہ گندم، خریداری کے منصوبوں اور مارکیٹ میں رسد کی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 226,918 میٹرک ٹن ضبط شدہ گندم کی نشاندہی اور مصالحت کی گئی ہے۔ اس میں سے 57,122 میٹرک ٹن فلور ملز میں موجود اور اٹھانے کے لیے دستیاب بتائی گئی، جبکہ 169,796 میٹرک ٹن تاجروں اور مبینہ ذخیرہ اندوزوں سے قبضے میں لی گئی تھی۔ حکام کے مطابق 25,365 میٹرک ٹن گندم قانونی کارروائی کے باعث زیرِ تنازع ہے، جس کے بعد 144,431 میٹرک ٹن فوری لفٹنگ کے لیے دستیاب رہتی ہے۔

محکمہ خوراک نے اجلاس کو بتایا کہ 59,223 میٹرک ٹن ضبط شدہ گندم کو خریداری اور ذخیرہ مراکز تک پہنچایا جا چکا ہے، جبکہ 85,208 میٹرک ٹن اٹھانا باقی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کو باقی ماندہ قانونی طور پر دستیاب ذخائر جلد منتقل کرنے کی ہدایت کی تاکہ اکتوبر میں سرکاری گندم کے اجرا کے وقت رسد میں رکاوٹ نہ آئے۔

صوبائی حکومت نے پاسکو سے 190,000 سے 223,455 میٹرک ٹن تک گندم خریدنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جو مناسب معیار کی دستیابی سے مشروط ہوگا۔ محکمہ خوراک کے مطابق گندم کی نقل و حمل کے لیے ٹینڈر جاری ہو چکا ہے اور اسے 22 ستمبر کو کھولا جانا ہے۔ اجلاس میں وفاقی سطح پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی 300,000 میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی ٹینڈر کارروائی پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سرکاری گندم کے اجرا کا طریقہ شفاف رکھا جائے اور مارکیٹ میں اس کے اثرات کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ رعایتی یا سرکاری ذخائر کا فائدہ صارفین تک کم آٹے کی قیمتوں کی صورت میں پہنچے۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف کارروائی تیز کرنے اور فلور ملز کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے مختلف ذرائع کو ملا کر تقریباً 303,829 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جبکہ کراچی میں 101 رجسٹرڈ فلور ملز میں سے 96 فعال ہیں۔