کوئٹہ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، نے کاروباری برادری کو آن لائن مالی فراڈ، بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی سے متعلق شکایات پر کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈان کے مطابق این سی سی آئی اے کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر خالد باقی نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے ملاقات میں کہا کہ ایجنسی ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔

این سی سی آئی اے کے افسر کے مطابق ادارے کے پاس تقریباً دو ہزار انکوائریاں زیر التوا ہیں جن پر کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے مالی فراڈ میں ملوث بیشتر گروہ جنوبی پنجاب اور دریائی کچے کے علاقوں سے کام کر رہے ہیں۔ یہ معلومات ایجنسی کے افسر کی بریفنگ پر مبنی ہیں اور کسی مخصوص فرد یا گروہ کے خلاف عدالتی فیصلہ نہیں ہیں۔

کوئٹہ چیمبر کے نمائندوں نے بتایا کہ کاروباری برادری کے ارکان کو آن لائن بینکنگ، مائیکرو فنانسنگ اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی ذرائع کے ذریعے لاکھوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے جعلی اکاؤنٹس، سوشل میڈیا بلیک میلنگ، کردار کشی اور مالی استحصال کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ چیمبر نے شکایات پر تیز کارروائی کے لیے اپنے نمائندوں، ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے پر مشتمل مشترکہ ٹیم بنانے کی تجویز بھی دی۔

ایجنسی کے افسر نے کہا کہ چیمبر کے دورے کا مقصد کاروباری برادری کے مسائل، تجربات اور تجاویز کو سمجھنا ہے تاکہ سائبر جرائم کے خلاف مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ کاروباروں کے لیے اکاؤنٹ سکیورٹی، شناخت کی تصدیق اور مشکوک لین دین کی فوری رپورٹنگ کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

تقریباً دو ہزار انکوائریوں کا زیر کارروائی ہونا شکایات کے حجم اور تحقیقاتی ادارے پر کام کے دباؤ دونوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم انکوائری کا آغاز کسی ملزم کے مجرم ثابت ہونے کے برابر نہیں؛ ہر معاملے میں شواہد، قانونی طریقہ کار اور جہاں ضروری ہو عدالتی کارروائی کے بعد نتیجہ سامنے آتا ہے۔ کاروباری برادری اور تحقیقاتی ادارے کے درمیان مجوزہ رابطہ نظام اگر قائم ہوتا ہے تو اس کی افادیت کا پیمانہ شکایات کے بروقت اندراج، تحقیقات اور قانونی نتائج سے ہوگا۔