کوئٹہ: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں کو مالی فراڈ، سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میلنگ اور کردار کشی کے واقعات کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایجنسی کے کوئٹہ دفتر کے حکام نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔

این سی سی آئی اے کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر خالد باقی نے چیمبر کے عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں بتایا کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے مالی فراڈ کرنے والے متعدد گروہ جنوبی پنجاب اور دریائی کچے کے علاقوں سے سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق سائبر فراڈ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور کاروباری افراد سمیت عام شہری بھی جعلی رابطوں، اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے نشانہ بن سکتے ہیں۔

ملاقات میں کوئٹہ چیمبر کے صدر احمد گل کاکڑ، سینئر نائب صدر مرزا خان خلجی، نائب صدر جنگیان دشتی اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ تاجروں نے سائبر جرائم سے متعلق شکایات، مقدمات کی پیروی اور متاثرین کو درپیش عملی مشکلات سے آگاہ کیا۔ این سی سی آئی اے حکام نے شکایات کے اندراج اور تحقیقات کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت تسلیم کی۔

رپورٹ کے مطابق ایجنسی میں اس وقت تقریباً دو ہزار انکوائریاں زیر التوا ہیں۔ زیر التوا معاملات کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سائبر جرائم کی شکایات میں اضافہ اور تفتیشی صلاحیت دونوں اہم چیلنج ہیں۔ ہر شکایت کا نتیجہ جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا؛ انکوائری کا مقصد ابتدائی حقائق اور دستیاب ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کرنا ہے، جس کے بعد ہی قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

این سی سی آئی اے نے کاروباری برادری کو مشورہ دیا کہ مشتبہ موبائل کالز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جعلی ادائیگی ہدایات اور غیر مصدقہ لنکس کے معاملے میں احتیاط کی جائے۔ مالی معلومات یا اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کرنے سے پہلے رابطے کی شناخت اور درخواست کی تصدیق ضروری ہے۔

کوئٹہ چیمبر اور سائبر کرائم ایجنسی کے درمیان رابطے کا مقصد کاروباری افراد کے لیے شکایت اور تفتیش کے طریقہ کار کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ ڈیجیٹل کاروبار اور آن لائن ادائیگیوں میں اضافے کے ساتھ مالی فراڈ اور بلیک میلنگ کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں، بینکنگ نظام، ٹیلی کام شعبے اور صارفین کے درمیان مربوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت مزید اہم ہو گئی ہے۔