اسلام آباد: پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سی ای آر ٹی) نے متعدد ایسے مشتبہ فشنگ ڈومینز کی نشاندہی کی ہے جو اہم سرکاری اور عوامی اداروں کے نام یا شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں اور بظاہر صارفین سے حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق این سی ای آر ٹی کے تھریٹ انٹیلی جنس سینٹر نے یہ سرگرمی اتوار 4 اکتوبر کو فعال حالت میں دیکھی اور ان ڈومینز کی نگرانی جاری رکھی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشتبہ ڈومینز میں نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے نام سے ایک مبینہ "سکیور لاگ اِن" ویب ایڈریس کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے نام سے مشابہ ڈومینز شامل ہیں۔ اسی طرح سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پنجاب سیف سٹیز کے نام استعمال کرنے والے مشتبہ لاگ اِن صفحات بھی رپورٹ کیے گئے۔

این سی ای آر ٹی کے مطابق فشنگ ویب سائٹس صارف کو کسی معروف ادارے کی اصل ویب سائٹ کا تاثر دے کر لاگ اِن تفصیلات، شناختی معلومات یا دوسری ذاتی معلومات درج کرنے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ ادارے نے شہریوں اور سرکاری تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ ای میل، پیغام یا سوشل میڈیا کے ذریعے موصول ہونے والے غیر مصدقہ لنکس پر براہ راست کلک نہ کریں، ویب ایڈریس کی درستگی کی جانچ کریں اور غیر مجاز صفحات پر پاس ورڈ یا ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔

سائبر سکیورٹی ادارے نے جنریٹو مصنوعی ذہانت کے غیر مجاز استعمال سے متعلق خطرات پر بھی الگ احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں۔ این سی ای آر ٹی کا کہنا ہے کہ عوامی چیٹ بوٹس، کوڈنگ اسسٹنٹس، براؤزر ایکسٹینشنز اور تیسرے فریق کے اے آئی ٹولز میں حساس یا خفیہ معلومات ڈالنے سے ڈیٹا، اسناد، سورس کوڈ اور ادارہ جاتی معلومات افشا ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اداروں کو منظور شدہ اے آئی ٹولز کی فہرست برقرار رکھنے، مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھنے اور کسی واقعے کی صورت میں شواہد محفوظ کرنے، متاثرہ اسناد منسوخ کرنے اور معاملہ رپورٹ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

این سی ای آر ٹی کی عمومی فشنگ رہنمائی بھی صارفین کو مشتبہ ویب پتوں کی تصدیق اور غیر معمولی درخواستوں پر احتیاط کی تلقین کرتی ہے۔ تازہ تنبیہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ سرکاری اداروں کے نام کا استعمال خود کسی ویب سائٹ کی صداقت کی ضمانت نہیں، اس لیے معلومات فراہم کرنے سے پہلے سرکاری ڈومین اور اصل ادارے کے رابطہ ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔