بجلی کی خریداری اور ایندھن کی لاگت سے متعلق اگست 2026 کی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین پر تقریباً 25 ارب روپے اضافی بوجھ ڈالنے کا معاملہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے سامنے آیا ہے۔ ڈان کی 30 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر نے نیپرا کی عوامی سماعت میں بتایا کہ اگست کے لیے اضافی فیول لاگت تقریباً 1.73 روپے فی یونٹ بنی۔ اگر ریگولیٹر اس ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دیتا ہے تو یہ رقم اکتوبر کے بلوں میں مختلف تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے صارفین سے وصول کی جا سکتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق اضافی لاگت کی بڑی وجہ مہنگی درآمدی آر ایل این جی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنا اور نسبتاً سستی ہائیڈرو اور جوہری بجلی کی دستیابی کا اندازوں سے کم رہنا تھا۔ سماعت میں بتایا گیا کہ ہائیڈرو پاور کا حصہ تقریباً 41 فیصد متوقع تھا لیکن عملی طور پر 38 فیصد کے قریب رہا، جبکہ جوہری بجلی کا حصہ 16.4 فیصد کے اندازے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد رہا۔ کراچی کے جوہری بجلی گھر کی بندش کو اس کمی کا ایک سبب بتایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 17 روپے فی یونٹ جبکہ مقامی کوئلے سے بجلی کی لاگت تقریباً 5.5 روپے فی یونٹ رہی۔ آر ایل این جی پر مبنی پیداوار کی لاگت 45.93 روپے فی یونٹ بتائی گئی، جو فرنس آئل سے پیداوار کی 45.25 روپے فی یونٹ لاگت سے بھی زیادہ تھی۔ پاور ڈویژن کے نمائندے نے سماعت میں کہا کہ اگست میں اوسطاً ڈیڑھ گھنٹے روزانہ لوڈ مینجمنٹ کے باعث اضافی فیول لاگت اس سے بھی زیادہ ہونے سے بچی۔
نیپرا نے اسی موقع پر صنعتوں کے لیے دسمبر 2025 میں متعارف کرائے گئے انکریمنٹل کنزمپشن ٹیرف پیکیج کا الگ جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔ نیپرا کی ویب سائٹ پر 29 ستمبر کو اس نیم سالانہ جائزے کی سماعت کا نوٹس جاری کیا گیا، جبکہ ڈان کے مطابق سماعت 5 اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ صنعتی نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ پیکیج سے زیادہ تر صنعتوں کو مطلوبہ فائدہ نہیں ملا اور اس کی لاگت دوسرے صارفین پر منتقل ہوئی۔ یہ صنعتی فریقوں کا مؤقف ہے اور پیکیج پر حتمی فیصلہ نیپرا کی سماعت کے بعد ہوگا۔
25 ارب روپے کی رقم ابھی صارفین پر حتمی طور پر عائد نہیں ہوئی؛ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کے لیے ریگولیٹری منظوری ضروری ہے۔ حتمی فی یونٹ رقم، اطلاق کی مدت اور صارفین کی متعلقہ اقسام نیپرا کے باضابطہ فیصلے سے طے ہوں گی۔ بجلی کے نرخوں میں اس نوعیت کی ماہانہ تبدیلیاں اصل پیداواری مکس، درآمدی ایندھن کی قیمت، روپے کی قدر اور دستیاب ہائیڈرو و جوہری پیداوار سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔
