پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق پاکستانی قیادت نے مسلم دنیا کو درپیش معاشی چیلنجوں کے تناظر میں کہا کہ رکن ممالک اپنی مشترکہ منڈی، وسائل اور انسانی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کرکے پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مؤقف میں تجارت کے راستوں کو آسان بنانے، نجی شعبے کے روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد ماحول پیدا کرنے کو اہم ترجیحات کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسلامی ممالک کے درمیان مجموعی تجارت کی استعداد موجودہ سطح سے کہیں زیادہ سمجھی جاتی ہے، لیکن ضابطہ جاتی رکاوٹیں، محدود رابطہ کاری اور مالیاتی سہولتوں کی کمی کئی منڈیوں کے درمیان کاروباری سرگرمی کو محدود کرتی ہے۔

پاکستان نے اقتصادی تعاون کو محض سرکاری اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے قابل عمل منصوبوں، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی رابطوں سے جوڑنے پر زور دیا۔ اس تناظر میں توانائی، خوراک، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تعاون جیسے شعبے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان خود بھی وسطی ایشیا، خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا کے درمیان جغرافیائی رابطے کو تجارتی مواقع میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اقتصادی فورمز میں پاکستان طویل عرصے سے باہمی تجارت میں اضافے اور ترقیاتی شراکت داری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ موجودہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی تجارت کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین میں تبدیلیوں جیسے دباؤ کا سامنا ہے۔ ان حالات میں رکن ممالک کے درمیان متبادل تجارتی راستوں اور سرمایہ کاری کے روابط کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

پاکستان کی تجویز کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ او آئی سی رکن ممالک تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، سرمایہ کاری کے تحفظ، کسٹمز سہولت کاری اور کاروباری رابطوں کے لیے کتنے مؤثر اقدامات کرتے ہیں۔ اگر مشترکہ پالیسی اہداف کو مخصوص منصوبوں اور قابل پیمائش تجارتی نتائج سے جوڑا جائے تو اقتصادی تعاون مسلم دنیا کے اندر ترقی اور روزگار کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔