اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام قائم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح روڈ میپ اور وقت بند اہداف تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ہدایات کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئیں، جس میں وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں صارفین کو پیش آنے والی مشکلات فوری طور پر دور کی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کیش لیس معیشت کے لیے ملک بھر میں قابل اعتماد انٹرنیٹ کی فراہمی اور عام شہریوں کے لیے ٹیکنالوجی تک آسان رسائی بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام حکومت کے کیش لیس معیشت کے ہدف میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور بیشتر اداروں میں دسمبر 2026 تک ادائیگیاں مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونے کی توقع ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تمام ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل والٹس استعمال کیے جانے کی بھی اطلاع دی گئی، جبکہ ان علاقوں کے لیے متبادل جدید نظام پر کام جاری ہے جہاں انٹرنیٹ دستیاب نہیں۔

وزیراعظم نے بجلی اور گیس کے صارفین کو بلوں پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔ تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ کیش لیس معیشت کے منصوبے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔ حکومت صارف اور تاجر کے درمیان راست کیو آر ادائیگیوں کے فروغ کی اسکیم کو سرکاری سرپرستی میں جاری رکھنا چاہتی ہے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 15 نومبر سے آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹ کے ذریعے چیک پر مبنی ادائیگیاں ختم کرکے راست کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جائیں گی اور متعلقہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو تربیت دی جا چکی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل لین دین سے مالی نظام میں شفافیت، ادائیگیوں کی رفتار اور سرکاری مالیاتی نظم بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس ہدف کے لیے رابطہ کاری، سائبر تحفظ اور عوامی رسائی کے مسائل کا حل بھی ضروری ہوگا۔