اسلام آباد: پاکستان کا اشیا کی تجارت کا خسارہ اکتوبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 3.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس کی بڑی وجہ درآمدات میں تیز اضافہ اور برآمدات کی نسبتاً محدود نمو رہی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں تجارتی خسارہ 3.24 ارب ڈالر تھا۔
اکتوبر 2026 میں ملکی برآمدات 2.93 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو اکتوبر 2025 کے 2.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 2.8 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس درآمدات 6.81 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال قبل 6.09 ارب ڈالر تھیں۔ یوں درآمدات میں تقریباً 12 فیصد اضافے نے تجارتی توازن پر زیادہ دباؤ ڈالا۔
ماہانہ بنیاد پر بھی خسارے میں اضافہ ہوا۔ ستمبر 2026 میں تجارتی خسارہ تقریباً 3.52 ارب ڈالر تھا، جس کے مقابلے میں اکتوبر میں یہ 10 فیصد سے زیادہ بڑھا۔ اکتوبر کے دوران درآمدی بل بڑھا جبکہ برآمدات میں ماہ بہ ماہ نمایاں بہتری سامنے نہیں آئی۔ یہ رجحان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان بیرونی کھاتے کے استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ، جولائی تا اکتوبر، میں تجارتی خسارہ تقریباً 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 12.61 ارب ڈالر سے قریب 16 فیصد زیادہ ہے۔ چار ماہ میں درآمدات 12 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 25.96 ارب ڈالر ہوئیں جبکہ برآمدات 8 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 11.34 ارب ڈالر رہیں۔
پاکستان ایندھن، مشینری، کیمیکلز اور بعض غذائی اشیا سمیت متعدد ضروری مصنوعات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی توانائی قیمتوں اور ملکی طلب میں تبدیلیاں درآمدی بل پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ دوسری جانب ٹیکسٹائل، چاول، چمڑا اور دیگر روایتی شعبے برآمدی آمدن میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق درآمدات اور برآمدات کی شرح نمو میں مسلسل فرق بیرونی فنانسنگ کی ضرورت بڑھا سکتا ہے، جبکہ ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات بیرونی کھاتے کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔
