اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان 2025-35 کی مشروط منظوری دے دی ہے۔ نیپرا کی 11 ستمبر 2026 کی سرکاری دستاویز اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ اگلے برسوں میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کی توسیع کے لیے طویل مدتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

ڈان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق نظرثانی شدہ منصوبے میں 2035 تک بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 26,045 میگاواٹ اضافے کا تصور کیا گیا ہے۔ اس میں 17,485 میگاواٹ پہلے سے طے شدہ یا زیرِ عمل صلاحیت اور 8,560 میگاواٹ آپٹمائزڈ نئی صلاحیت شامل ہے، جبکہ 2,577 میگاواٹ موجودہ صلاحیت کی ریٹائرمنٹ بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کے نتیجے میں مجموعی نصب شدہ صلاحیت 62,657 میگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

پیداواری حصے کی موجودہ قدر تقریباً 47.08 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ جاری یا طے شدہ ٹرانسمیشن منصوبوں کے لیے تقریباً 4.6 ارب ڈالر اور نئے ٹرانسمیشن توسیعی منصوبوں کے لیے 6.05 ارب ڈالر کی ضرورت ظاہر کی گئی، یوں ٹرانسمیشن سرمایہ کاری کا مجموعہ تقریباً 10.65 ارب ڈالر بنتا ہے۔ دونوں حصوں کو ملا کر منصوبے کا مجموعی حجم تقریباً 58 ارب ڈالر کے قریب بنتا ہے۔

نیپرا نے تاہم مجوزہ 900 ملین ڈالر کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کو اس مرحلے پر منظور نہیں کیا۔ ریگولیٹر نے ہدایت کی کہ اس کی ضرورت، مناسب گنجائش، استعمال اور لاگت کی افادیت پر جامع تکنیکی و معاشی مطالعہ کیا جائے۔ اسی طرح 2028 کے لیے تجویز کردہ نیشنل گرڈ کمپنی اور کے الیکٹرک کے انٹرکنکشن منصوبے کو بھی موجودہ شکل میں منظور نہیں کیا گیا، کیونکہ ریگولیٹر کے مطابق مجوزہ ٹائم لائن حقیقت پسندانہ نہیں تھی۔

نیپرا نے منصوبے کی منظوری کے ساتھ متعدد تحفظات بھی درج کیے، جن میں طلب کے تخمینوں، منصوبوں کی درجہ بندی، ڈیٹا کی درستگی، قابل تجدید توانائی کے انضمام اور صارفین کے ٹیرف پر ممکنہ اثرات شامل ہیں۔ ریگولیٹر نے آئی ایس ایم او کو آئندہ منصوبہ بندی میں ان نکات کی وضاحت اور مختلف تخمینوں میں پائے جانے والے فرق دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ پلان میں شامل ہر منصوبہ خودکار طور پر تعمیر کے مرحلے میں چلا گیا ہے۔ یہ ایک ریگولیٹری منصوبہ بندی دستاویز ہے جس کے مختلف اجزا کے لیے متعلقہ منظوریوں، مالی بندوبست اور عملی پیش رفت کے الگ مراحل درکار ہوں گے۔ نیپرا کا فیصلہ پاکستان کے بجلی نظام میں مستقبل کی طلب، اضافی پیداواری صلاحیت اور بڑھتے ہوئے مالی اخراجات کے درمیان توازن کے حوالے سے آئندہ پالیسی مباحثے کی بنیاد بنے گا۔