کراچی: پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد مالی سال 2025-26 کے دوران کم ہو کر تقریباً 38 ہزار یونٹس رہ گئی، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ تعداد تقریباً 42 ہزار تھی۔ ڈان کی 13 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد انڈس موٹر کمپنی کی سالانہ رپورٹ میں دیے گئے ہیں، جس نے درآمدی پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کو استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد میں کمی سے جوڑا ہے۔

حکومت نے جنوری 2026 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے پرسنل بیگیج اسکیم ختم کردی تھی۔ تحفہ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیمیں برقرار رکھی گئیں، لیکن ان کے تحت آنے والی گاڑیوں کے لیے پری شپمنٹ انسپیکشن اور دیگر ضابطہ جاتی شرائط سخت کی گئیں۔ وزارتِ تجارت نے بعد میں قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ پالیسی میں تبدیلی کا مقصد ان اسکیموں کے تجارتی استعمال کو محدود کرنا اور حقیقی بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ذاتی استعمال کے لیے سہولت دینا ہے۔

انڈس موٹر کے مطابق پالیسی اقدامات کے نتیجے میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں مزید کمی آسکتی ہے اور اس سے مقامی آٹو صنعت کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت کے بہتر استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اس وقت بھی درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیاں مجموعی فروخت کا تقریباً 19 فیصد حصہ رکھتی ہیں، جبکہ مقامی صنعت 50 فیصد سے کم نصب شدہ صلاحیت پر کام کر رہی ہے۔

آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن اِن چیف میاں شعیب احمد نے ڈان کو بتایا کہ پرسنل بیگیج اسکیم پر پابندی کے بعد اس راستے سے نئی آمد نہیں ہوئی اور گفٹ اسکیم کے تحت درآمد بھی محدود ہے۔ ان کے مطابق مجموعی آٹو درآمدات میں بعض جگہ اضافہ نئی مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد کی وجہ سے ہے، نہ کہ استعمال شدہ گاڑیوں کے اسی پرانے رجحان کی وجہ سے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد کے مطابق مکمل تیار شدہ یعنی سی بی یو گاڑیوں کی درآمدی مالیت مالی سال 2026 میں 36 فیصد بڑھ کر 377.7 ملین ڈالر ہوگئی، جو مالی سال 2025 میں 278 ملین ڈالر تھی۔ جولائی 2026 میں سی بی یو درآمدات 57 ملین ڈالر رہیں، جون میں 70 ملین ڈالر اور جولائی 2025 میں 33 ملین ڈالر تھیں۔

یہ اعداد دو مختلف رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں: استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں کمی جبکہ نئی مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمدی مالیت میں اضافہ۔ اس لیے 38 ہزار یونٹس کی کمی کو پورے آٹو امپورٹ بل میں یکساں کمی نہیں سمجھا جا سکتا۔ مقامی صنعت اور درآمد کنندگان پر پالیسی کے مکمل اثرات کا اندازہ آئندہ مالی سال کے فروخت، مقامی اسمبلنگ اور درآمدی اعداد سے زیادہ واضح ہوگا۔