نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کو قابل تجدید بجلی کی آئندہ مسابقتی نیلامی میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم لازمی قرار دینے کی اجازت دے دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ فیصلہ 800 میگاواٹ کی مجوزہ ہوا اور شمسی بجلی صلاحیت کے لیے ’’وہیلنگ آکشن پراسس‘‘ میں ترامیم کے ذریعے کیا گیا۔ یہ ضابطہ جاتی منظوری ہے؛ اس کے نتیجے میں ابھی کوئی بیٹری منصوبہ خرید، تعمیر یا گرڈ سے منسلک نہیں ہوا۔

منظور شدہ شرط کے تحت شمسی یا ہوا سے بجلی پیدا کرنے والا بولی دہندہ اسی وقت نیلامی میں اہل ہوگا جب اس کے پیداواری مقام پر موجود بیٹری نظام کی فرم صلاحیت کم از کم متعلقہ شمسی یا ہوا منصوبے کی فرم صلاحیت کے 10 فیصد کے برابر ہو۔ شرکا اس کم از کم حد سے زیادہ اسٹوریج بھی نصب کرسکیں گے۔ اصل بولی دستاویزات میں طاقت، توانائی کی مدت، کارکردگی، دستیابی اور آزمائش کے تفصیلی تقاضے واضح ہونا ضروری ہوں گے۔

حکومت نے تقریباً تین دہائیوں کی تاخیر کے بعد 800 میگاواٹ کی تصوراتی صلاحیت کے لیے مسابقتی نیلامی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیپرا کی ترمیم کے بعد پاور ڈویژن کی ذیلی کمپنی انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر، یعنی آئی ایس ایم او، کو پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے لیے درخواستِ تجاویز جاری کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نجی شعبے سے رابطے میں ہے اور بولی کا حتمی شیڈول ابھی طے کیا جا رہا ہے۔

پہلی نیلامی میں درخواستِ تجاویز شائع ہونے کے بعد شرکا کو دو ماہ کے اندر پیشکش جمع کرانا ہوگی اور یہ مدت قابل توسیع نہیں ہوگی۔ بعد کی نیلامیوں کے لیے ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اضافی وقت دینے کی وجہ نئے طریقۂ کار، بیٹری کے فنی و مالی بندوبست اور ممکنہ شرکا کی تیاری بتائی گئی ہے۔ مقررہ مدت کا اطلاق اصل آر ایف پی کے اجرا کے بعد ہوگا، نہ کہ نیپرا کے موجودہ فیصلے کی تاریخ سے خودکار طور پر۔

بیٹری اسٹوریج کی شرط کا مقصد شمسی پیداوار کے دن کے اوقات میں بڑھنے اور شام کو اچانک کم ہونے سے پیدا ہونے والے ’’ڈک کرو‘‘ مسئلے میں گرڈ کو زیادہ لچک فراہم کرنا ہے۔ بڑی تعداد میں صارفین دن کے وقت اپنی شمسی بجلی استعمال کرتے ہیں اور غروب آفتاب کے بعد دوبارہ گرڈ سے طلب بڑھاتے ہیں۔ بیٹریاں کچھ بجلی محفوظ کرکے ضرورت کے وقت فراہم کرسکتی ہیں، لیکن ان کا حقیقی فائدہ مناسب ڈسپیچ، چارجنگ کے قواعد، دورانیے اور گرڈ سگنلز پر منحصر ہوگا۔

آئی ایس ایم او کی مالی ماڈلنگ کے مطابق بیٹری کی صلاحیت ایک خاص حد تک بڑھانے سے منصوبے کے منافع میں بہتری آسکتی ہے۔ شرکا اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آرا کے بعد 10 فیصد کو کم از کم لازمی حد بنایا گیا۔ یہ کم از کم طاقت کی نسبت ہے؛ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بیٹری کتنے گھنٹے مکمل پیداوار دے گی۔ میگاواٹ طاقت اور میگاواٹ آور توانائی الگ پیمانے ہیں، اس لیے نیلامی کی فنی دستاویزات بیٹری کی عملی افادیت کے لیے اہم ہوں گی۔

نیپرا نے نیلامی سے متعلق شکایات کے لیے تین رکنی ازالہ کمیٹی کی تشکیل بھی منظور کی ہے۔ اس کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے اور آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر رکن ہوں گے۔ نجی شعبے نے اہلیت جانچنے والی آکشن کمیٹی سے الگ شکایتی فورم کی درخواست کی تھی تاکہ ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کو کم کیا جاسکے۔

بیٹری کی لازمی شرط سے گرڈ استحکام بہتر ہونے کی توقع ہے، لیکن اس سے بولی دہندگان کی ابتدائی سرمایہ لاگت بھی بڑھے گی۔ حاصل ہونے والی بجلی کی حتمی قیمت بیٹری کی درآمد یا مقامی تیاری، مالیاتی لاگت، وارنٹی، متبادل اخراجات، سائیکلنگ اور نیلامی میں مقابلے سے طے ہوگی۔ نیپرا کی اجازت خود کم نرخ یا کامیاب خریداری کی ضمانت نہیں۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت آکشن قواعد میں ترمیم، کم از کم 10 فیصد بیٹری فرم صلاحیت کی اہلیتی شرط، پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے آر ایف پی کی اجازت اور آزاد شکایتی کمیٹی کا انتظام ہے۔ اصل منصوبوں، نرخوں، کامیاب بولی دہندگان اور تنصیب کی مدت کا فیصلہ آئندہ نیلامی اور معاہدوں کے بعد ہوگا۔