اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 13 پیسے کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی ایکس ڈپو قیمتیں 5 ستمبر سے نافذ ہوں گی اور 7 ستمبر تک برقرار رہیں گی۔

نئے نرخوں کے تحت موٹر اسپرٹ، یعنی پیٹرول، کی قیمت 349 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 374 روپے 31 پیسے سے بڑھ کر 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یوں ایک ہی نظرثانی میں عام موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والا پیٹرول سستا ہوا ہے جبکہ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور متعدد صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والا ڈیزل مہنگا ہوا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کے موجودہ پیٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت ایکس ڈپو نرخوں کا تعین کیا۔ حالیہ عرصے میں عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان نے قیمتوں کے جائزے کا وقفہ مختصر کیا ہے۔ حکام کے مطابق قیمتوں کے حساب میں بین الاقوامی مارکیٹ کے حوالہ نرخ اور دیگر قابل اطلاق لاگت شامل ہوتی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر ڈیلر مارجن 9.98 روپے فی لیٹر، آئل مارکیٹنگ کمپنی کا مارجن 7.87 روپے، پیٹرولیم لیوی 80 روپے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ رپورٹ میں کسٹمز ڈیوٹی سمیت دیگر اجزا کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بھی پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی یہی فی لیٹر شرح بتائی گئی، اگرچہ کسٹمز ڈیوٹی اور بنیادی ریفائنری لاگت دونوں مصنوعات میں مختلف ہیں۔

حالیہ قیمتوں میں تبدیلی ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق رسد کے خدشات عالمی توانائی منڈی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکومت نے عالمی قیمتوں کے تیز اتار چڑھاؤ کے تناظر میں مختصر مدت کے لیے نرخ جاری کرنے کا نظام اپنایا ہے، جس کے باعث صارفین کو روایتی طویل مدت کے بجائے زیادہ بار قیمتوں میں تبدیلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پیٹرول کی کمی سے نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو محدود ریلیف ملے گا، تاہم ڈیزل میں اضافہ مال برداری اور بس ٹرانسپورٹ کی لاگت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس کے وسیع تر مہنگائی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے جائزوں میں عالمی خام تیل، شرح مبادلہ اور مقامی ٹیکس و لیوی کی سطح کس سمت جاتی ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن صرف 5 سے 7 ستمبر کے نرخوں کی تصدیق کرتا ہے۔