اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حکومت کو ہوا اور شمسی توانائی کے مجوزہ 800 میگاواٹ نیلامی پروگرام میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، یعنی بی ای ایس ایس، لازمی قرار دینے کی اجازت دے دی ہے۔ منظور شدہ ترمیم کا مقصد ایسے بجلی نظام کو زیادہ لچک دینا ہے جس میں دن کے وقت شمسی پیداوار بڑھنے اور شام کو طلب اچانک واپس آنے سے رسد اور طلب کا توازن مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت تقریباً تین دہائیوں بعد بجلی کی مسابقتی نیلامی کا عمل شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجموعی طور پر 800 میگاواٹ کی علامتی وہیلنگ صلاحیت کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ کے بلاک کی درخواستِ تجاویز جاری کی جانی ہے۔ آزاد نظام و مارکیٹ آپریٹر، جسے آئی ایس ایم او کہا جاتا ہے، نجی شعبے سے مشاورت کے بعد بولی کا باقاعدہ شیڈول طے کرے گا۔
نیپرا کی منظور کردہ بنیادی شرط کے مطابق شمسی یا ہوا سے بجلی پیدا کرنے والا کوئی بھی امیدوار اسی صورت نیلامی میں حصہ لے سکے گا جب اس کے پیداواری مقام پر نصب بیٹری نظام کی قابلِ بھروسا صلاحیت مجوزہ منصوبے کی فرم صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہو۔ امیدوار اپنی مالی اور تکنیکی ضرورت کے مطابق اس کم از کم حد سے زیادہ ذخیرہ بھی نصب کر سکتے ہیں۔ آئی ایس ایم او کی ماڈلنگ کے مطابق ایک مخصوص حد تک بیٹری صلاحیت بڑھانے سے منصوبے کی مالی واپسی بہتر ہوسکتی ہے۔
پہلی نیلامی میں درخواستِ تجاویز شائع ہونے کے بعد بولی دہندگان کو پیشکش جمع کرانے کے لیے دو ماہ دیے جائیں گے اور یہ مدت مقررہ اور ناقابلِ توسیع ہوگی۔ بعد کی نیلامیوں کے لیے یہی مدت ایک ماہ ہوگی۔ پہلی مرتبہ نئے طریقۂ کار پر عمل ہونے کے باعث ابتدائی مرحلے میں نسبتاً زیادہ وقت رکھا گیا ہے تاکہ تکنیکی اور مالی دستاویزات مکمل کی جا سکیں۔
ترامیم میں شکایات کے ازالے کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی شامل ہے۔ کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر باقی ارکان ہوں گے۔ یہ کمیٹی اہلیت، بولی یا نیلامی کے طریقۂ کار سے متعلق شکایات کا جائزہ لے گی، تاہم حتمی منصوبوں، نرخوں اور تعمیراتی مدت کا تعین عملی بولیوں اور متعلقہ منظوریوں کے بعد ہوگا۔
بیٹری ذخیرہ شمسی اور ہوا کی غیر مسلسل پیداوار کو کچھ وقت کے لیے محفوظ کرکے زیادہ ضرورت کے اوقات میں نظام کو واپس فراہم کرتا ہے۔ اس سے شام کے وقت طلب بڑھنے، فریکوئنسی سنبھالنے اور گرڈ میں اچانک اتار چڑھاؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسے بجلی کی کمی یا تمام ترسیلی مسائل کا خودکار حل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کی افادیت بیٹری کے دورانیے، مقام، کنٹرول نظام، لاگت اور گرڈ کی دستیاب صلاحیت پر منحصر ہوگی۔
نیپرا کے سامنے پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق بھارت، فلپائن، چین اور ڈومینیکن ری پبلک سمیت بعض ترقی پذیر منڈیوں نے قابلِ تجدید توانائی کے ساتھ لازمی بیٹری شرائط اپنائی ہیں، جبکہ پختہ منڈیوں میں اکثر شرکا کو تجارتی معلومات کی بنیاد پر اپنی ضرورت طے کرنے دی جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے اب اگلا اہم مرحلہ درخواستِ تجاویز، بولی کی شرائط، قیمت کے معیار اور منصوبوں کے نفاذ کا شفاف اعلان ہوگا۔




