نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے مسابقتی وہیلنگ نیلامی میں حصہ لینے والے شمسی اور ہوا بجلی منصوبوں کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی مشترکہ تنصیب لازمی قرار دے دی ہے۔ 4 ستمبر 2026 کے نیپرا فیصلے کے مطابق بیٹری نظام کی مصدقہ صلاحیت متعلقہ شمسی یا ہوا پیداواری سہولت کی فرم صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہونی چاہیے۔ یہ شرط 800 میگاواٹ کی مجموعی وہیلنگ نیلامی کے منظور شدہ طریقۂ کار میں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی ہے۔

پہلی نیلامی کا حجم 400 میگاواٹ رکھا گیا ہے، جس کے لیے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر نے اندازہ دیا کہ 10 فیصد شرط تقریباً 40 میگاواٹ فرم بیٹری صلاحیت اور قابل اطلاق ڈسچارج دورانیے کے تحت قریب 160 میگاواٹ آور توانائی ذخیرہ پیدا کرے گی۔ بیٹری دن کے ان اوقات میں چارج ہوسکتی ہے جب شمسی یا ہوا پیداوار زیادہ ہو اور نسبتاً زیادہ طلب کے وقت بجلی واپس نظام میں دے سکتی ہے۔ مقصد شام کے اچانک طلبی اضافے، قابل تجدید توانائی کی کٹوتی اور گرڈ لچک کے مسائل کو محدود کرنا ہے۔

نیپرا نے واضح کیا کہ یہ شرط ابتدائی مرحلے کے لیے تجارتی طور پر قابل عمل کم از کم حد ہے، مستقل تکنیکی حد نہیں۔ اسمو کی ماڈلنگ کے مطابق 10 فیصد بیٹری کے ساتھ شمسی اور ہوا منصوبے مالی طور پر قابل عمل رہتے ہیں اور بعض مفروضوں میں ایکویٹی منافع کی شرح بہتر ہوتی ہے۔ ریگولیٹر نے 20 فیصد کی زیادہ حد کو فوری طور پر لازم نہیں کیا کیونکہ اس سے ابتدائی سرمایہ لاگت اور نفاذی خطرہ بڑھنے اور چھوٹے شرکا کی شرکت کم ہونے کا امکان تھا۔ نیپرا نے اسمو کو پہلی درخواستِ تجاویز جاری کرنے سے پہلے متعلقہ مالی ماڈل اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسمو کی سمیولیشن میں نظامی سطح پر ہوا بجلی کی کٹوتی میں تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹ اور شمسی کٹوتی میں 1.1 فیصد پوائنٹ کمی کا اندازہ دیا گیا، جبکہ قومی حاشیائی قیمت پر اثر نہایت محدود بتایا گیا۔ نیپرا نے نوٹ کیا کہ زیادہ واضح مقداری فائدہ منصوبے کی سطح پر کٹوتی کے خطرے اور مالی واپسی میں سامنے آتا ہے، نہ کہ فوری طور پر بہت بڑے قومی لوڈ منتقلی اثر میں۔ قابلِ اعتماد عملی فائدہ منصوبوں کے کمیشن ہونے اور حقیقی آپریشنل ڈیٹا آنے کے بعد ہی جانچا جاسکے گا۔

بیٹری کی فرم صلاحیت کا حساب مارکیٹ کمرشل کوڈ کے متعلقہ طریقۂ کار کے تحت انورٹر صلاحیت، ڈسچارج دورانیہ اور دستیابی کے عوامل کو سامنے رکھ کر ہوگا۔ بولی دہندہ درخواست میں اپنی صلاحیت ظاہر کرے گا اور تنصیب کی عملی تصدیق کے بعد پرفارمنس گارنٹی واپس ہوسکے گی۔ مطلوبہ بیٹری نہ لگانے یا برقرار نہ رکھنے کو معاہداتی خلاف ورزی تصور کیا جاسکتا ہے اور پرفارمنس گارنٹی ضبط ہونے سمیت کارروائی ہوسکتی ہے۔ تجارتی آپریشن کے بعد گرڈ کوڈ، ڈسٹری بیوشن کوڈ اور مارکیٹ کمرشل کوڈ لاگو رہیں گے۔

نیپرا نے پہلی نیلامی کے لیے درخواستِ تجاویز شائع ہونے کے بعد دو ماہ کی مقرر اور ناقابلِ توسیع مدت منظور کی ہے، جبکہ بعد کی نیلامیوں میں بولی جمع کرانے کا عرصہ ایک ماہ ہوگا۔ ریگولیٹر نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ بولیوں سے متعلق شکایات کے لیے تین رکنی کمیٹی بنے گی جس کی صدارت پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے اور اسمو بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر شامل ہوں گے۔ کمیٹی کے ارکان بولیوں کی اصل جانچ یا آکشن کمیٹی کے فیصلوں میں شریک نہیں ہوں گے۔

حکم صرف شمسی اور ہوا منصوبوں کے ساتھ بیٹری کی مشترکہ تنصیب پر لاگو ہے کیونکہ یہی غیر مسلسل ذرائع ’’ڈک کرو‘‘، ریمپنگ اور کٹوتی کے مسائل سے براہ راست منسلک ہیں۔ دوسرے پیداواری ذرائع بولی قدر کی بنیاد پر مقابلہ جاری رکھیں گے۔ پمپڈ ہائیڈرو یا الگ گرڈ سطح کی بیٹریوں سمیت دیگر اسٹوریج انتظامات کو بعد کے مرحلے میں زیر غور لایا جاسکتا ہے، مگر موجودہ فیصلے نے انہیں پہلی نیلامی کی لازمی شرط نہیں بنایا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت نیپرا کی قواعدی منظوری، 10 فیصد کم از کم بیٹری شرط، پہلی نیلامی کا 400 میگاواٹ حجم، مقررہ بولی مدت اور آزاد شکایتی کمیٹی کا ڈھانچہ ہے۔ اسے 800 میگاواٹ نئی بجلی یا 160 میگاواٹ آور اسٹوریج کی پہلے سے تنصیب نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ حقیقی صلاحیت کامیاب بولیوں، مالی اختتام، تعمیر اور کمیشننگ کے بعد دستیاب ہوگی۔