پنجاب حکومت نے فصلوں کی کٹائی اور آئندہ آلودگی کے خطرات سے پہلے صوبہ بھر میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مختلف شعبوں میں کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی پنجاب اینٹوں کے بھٹوں، صنعتوں، پلاسٹک کاروبار اور تعمیراتی مقامات کی نگرانی کر رہی ہے۔
صوبائی بیان کے مطابق اینٹوں کے بھٹوں کے شعبے میں 166 مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ ماحولیاتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر ایک بھٹا گرایا گیا اور تین کو سیل کردیا گیا، جبکہ مالکان پر مجموعی طور پر تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ کسی مقام کی سیلنگ یا جرمانہ انتظامی نفاذ کا اقدام ہے؛ اگر متعلقہ فریق اسے چیلنج کرے تو حتمی قانونی حیثیت قابل اطلاق اپیل یا عدالتی عمل کے مطابق طے ہوگی۔
صنعتی آلودگی کے خلاف کارروائی میں 114 یونٹس کی جانچ کی گئی اور سات کو خلاف ورزیوں پر سیل کرنے کی اطلاع دی گئی۔ صوبائی حکومت کے مطابق ان معاملات میں مجموعی طور پر چار لاکھ روپے کے جرمانے کیے گئے۔ جاری معلومات میں سیل شدہ صنعتوں کے نام، اضلاع، اخراج کی نوعیت یا ہر یونٹ پر عائد رقم الگ الگ نہیں بتائی گئی، اس لیے تمام اداروں کو یکساں خلاف ورزی کا ذمہ دار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
پلاسٹک آلودگی سے متعلق کارروائی میں 132 مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ حکام نے ایک ہزار 515 کلوگرام غیر قانونی پلاسٹک ضبط کرنے، 20 احاطے سیل کرنے اور ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانے عائد کرنے کی اطلاع دی۔ ’’غیر قانونی پلاسٹک‘‘ کی عملی تعریف قابل اطلاق صوبائی پابندیوں، موٹائی، مصنوعات کی قسم، تیاری، ذخیرہ یا فروخت کے قواعد کے مطابق ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں ضبط شدہ مواد کی مکمل درجہ بندی اور اسے تلف یا ری سائیکل کرنے کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔
تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والی گرد کے خلاف بھی نگرانی بڑھانے کا ذکر کیا گیا۔ ایک تعمیراتی سائٹ کے معائنے کے دوران نوٹس جاری کیا گیا اور ہوا میں گرد کم کرنے کے لیے مسٹ اسپرنکلر نصب کیا گیا۔ یہ ایک رپورٹ شدہ مقام کی کارروائی ہے؛ اسے پورے صوبے کے تمام زیر تعمیر منصوبوں میں آلودگی کنٹرول آلات کی تنصیب نہیں سمجھا جاسکتا۔ مؤثر نگرانی کے لیے کھلے ملبے، پانی کے چھڑکاؤ، تعمیراتی مواد کی ڈھانپ، گاڑیوں کی صفائی اور فضائی اخراج کے قواعد پر مسلسل عمل ضروری ہوگا۔
ڈان کی الگ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے فصلوں کی کٹائی کے موسم سے پہلے ماحولیاتی فورس، ای پی اے اور دیگر متعلقہ محکموں کی کارروائیاں صوبے بھر میں مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، کاروباری سرگرمیوں اور زرعی عوامل پر توجہ دی جائے گی۔ کٹائی کے موسم میں فصلوں کی باقیات جلانے سمیت مختلف ذرائع فضائی معیار پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، لیکن موجودہ APP اعداد میں فصلوں کی باقیات کے خلاف مقدمات یا جرمانوں کی الگ تعداد نہیں دی گئی۔
حکومت نے اسے ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی قرار دیا ہے، تاہم نفاذ کی شفافیت کے لیے مقام وار اعداد، خلاف ورزی کی نوعیت، نوٹس کا جواب، اپیل اور دوبارہ معائنے کے نتائج سامنے آنا اہم ہوگا۔ صرف معائنوں اور سیلنگ کی تعداد آلودگی میں حقیقی کمی کا مکمل پیمانہ نہیں؛ فضائی معیار، اخراج کی نگرانی اور مستقل تعمیل کے قابلِ جانچ اعداد بھی درکار ہوتے ہیں۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 166 بھٹوں، 114 صنعتی یونٹس اور 132 پلاسٹک مقامات کی جانچ، ایک بھٹے کی مسماری، متعدد مقامات کی سیلنگ، مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 80 ہزار روپے جرمانے اور 1,515 کلوگرام پلاسٹک کی ضبطی ہے۔ صوبے کے فضائی معیار پر ان اقدامات کا نتیجہ آئندہ نگرانی اور مسلسل تعمیل سے واضح ہوگا۔




