اسلام آباد: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبر 2026 کے لیے بجلی کی ماہانہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کے تحت نرخ میں اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرا دی ہے۔ درخواست میں بجلی کی پیداوار پر آنے والی حقیقی ایندھن لاگت اور پہلے سے مقرر حوالہ لاگت کے فرق کی بنیاد پر صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔
ماہانہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ پاکستان کے بجلی کے نرخوں کے نظام کا ایک باقاعدہ حصہ ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت کسی مخصوص مہینے میں بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن، درآمدی توانائی، پیداواری ذرائع کے تناسب اور دیگر متعلقہ لاگتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر حقیقی فیول لاگت حوالہ قیمت سے زیادہ ہو تو اضافے کی درخواست سامنے آ سکتی ہے، جبکہ کم ہونے کی صورت میں صارفین کو منفی ایڈجسٹمنٹ یا ریلیف بھی مل سکتا ہے۔
سی پی پی اے کی درخواست بذات خود صارفین کے بلوں میں فوری اضافہ نہیں ہے۔ نیپرا درخواست کا جائزہ لیتا ہے، اعداد و شمار اور بجلی کی پیداواری لاگت کی جانچ کرتا ہے اور باقاعدہ سماعت کے بعد فیصلہ جاری کرتا ہے۔ ریگولیٹر درخواست کردہ رقم کو مکمل طور پر منظور، جزوی طور پر منظور یا دستیاب شواہد کی بنیاد پر مختلف شرح مقرر کر سکتا ہے۔ اسی لیے مجوزہ اضافہ اور حتمی قابل اطلاق نرخ میں فرق ہو سکتا ہے۔
بجلی کی پیداواری لاگت پر درآمدی ایندھن کی عالمی قیمت، روپے کی شرح مبادلہ، پن بجلی اور دیگر کم لاگت ذرائع کی دستیابی، پاور پلانٹس کی کارکردگی اور بجلی کی مجموعی طلب اثر انداز ہوتی ہے۔ کسی مہینے میں مہنگے ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کا حصہ بڑھنے سے فی یونٹ اوسط لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ پن بجلی، جوہری یا دیگر نسبتاً کم لاگت ذرائع کا زیادہ حصہ اوسط قیمت کو کم کر سکتا ہے۔
نیپرا کی منظوری کی صورت میں متعلقہ ایڈجسٹمنٹ مقررہ بلنگ مدت میں اہل صارفین پر لاگو ہوگی۔ صارفین کے لیے اصل مالی اثر حتمی فیصلے، منظور شدہ فی یونٹ شرح اور ان کے بجلی کے استعمال پر منحصر ہوگا۔ اس مرحلے پر معاملہ سی پی پی اے کی درخواست ہے اور اسے حتمی ٹیرف فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
