کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ذخائر سے فلور ملز کو جاری کی جانے والی گندم کی قیمت 4 ہزار 500 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق نئی اجرا قیمت کے تحت سرکاری گندم مارکیٹ میں فراہم کی جائے گی تاکہ آٹے کی دستیابی بہتر بنانے اور قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکے۔
گندم کی سرکاری اجرا قیمت صوبے میں آٹے کی پیداواری لاگت اور خوردہ نرخوں کے تعین میں اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ فلور ملز سرکاری ذخائر سے ملنے والی گندم کو پیس کر مختلف اقسام کا آٹا مارکیٹ میں فراہم کرتی ہیں، اس لیے گندم کی بنیادی قیمت میں تبدیلی کا اثر آٹے کی قیمت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خوراک کی قیمتیں گھریلو بجٹ اور مہنگائی کے مجموعی رجحان میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سندھ میں گندم کی خریداری، ذخیرہ اور اجرا صوبائی خوراک کے نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ حکومت فصل کے موسم میں خریداری اور بعد میں ضرورت کے مطابق ذخائر سے گندم کے اجرا کے ذریعے مارکیٹ کی رسد میں مداخلت کرتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد عام طور پر قلت کے خدشات کم کرنا، ملوں کو خام مال فراہم کرنا اور قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو محدود کرنا ہوتا ہے۔
کابینہ کی منظوری کے بعد متعلقہ صوبائی محکمے گندم کے اجرا، اہل فلور ملز کو کوٹے کی فراہمی اور سرکاری نرخ کے نفاذ کے انتظامات کریں گے۔ عملی طور پر صارفین کو ملنے والے آٹے کی حتمی قیمت میں ملنگ، پیکنگ، نقل و حمل اور خوردہ فروخت کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، اس لیے سرکاری گندم کی اجرا قیمت اور بازار میں آٹے کے نرخ ایک جیسے نہیں ہوتے۔
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 4 ہزار 500 روپے فی 40 کلو کی قیمت سرکاری ذخائر سے گندم کی فراہمی کے لیے ہے۔ اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی اور مختلف شہروں میں خوردہ قیمتوں کے رجحان سے لیا جا سکے گا۔ متعلقہ حکام کے لیے یہ بھی اہم ہوگا کہ اجرا کا نظام شفاف رہے اور سرکاری گندم طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ملوں تک پہنچے۔
