نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی صارفین کے لیے دو الگ ایڈجسٹمنٹس کے تحت اضافی وصولیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق جولائی کی فیول لاگت کے فرق کی مد میں 2 روپے 6 پیسے فی یونٹ اضافی چارج ستمبر کے بلوں میں شامل ہوگا، جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت تقریباً 52 پیسے فی یونٹ اضافی رقم ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں وصول کی جائے گی۔
ان دونوں اجزا کو ملا کر ستمبر میں بہت سے صارفین کے لیے اضافی بوجھ تقریباً 2 روپے 58 پیسے فی یونٹ بنتا ہے۔ نیپرا کے فیصلے سے بجلی صارفین پر مجموعی طور پر قریب 46 ارب روپے کا اضافی مالی اثر متوقع ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے تقریباً 45.6 ارب روپے کی وصولی ہوگی، جبکہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ الگ بنیاد پر جولائی میں بجلی پیدا کرنے کے اخراجات اور پہلے سے وصول شدہ حوالہ لاگت کے فرق سے متعلق ہے۔
فیول چارج ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن، درآمدی توانائی اور پیداواری ذرائع کے حقیقی اخراجات میں تبدیلی کے مطابق بعد کے مہینے کے بل میں شامل کی جاتی ہے۔ اسی طرح سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کیپیسٹی چارجز، نظامی اخراجات اور دیگر منظور شدہ مالی اجزا شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم تمام صارفین پر یکساں اطلاق ضروری نہیں؛ بعض لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، پری پیڈ صارفین یا دیگر مخصوص زمروں کے لیے مختلف قواعد اور استثنیٰ موجود ہو سکتے ہیں۔
تازہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بجلی کے بنیادی نرخ، ٹیکس، سرچارچ اور مختلف ایڈجسٹمنٹس گھریلو اور صنعتی صارفین کے مجموعی بل پر بڑا اثر ڈال رہے ہیں۔ کاروباری شعبہ توانائی کی لاگت کو مسابقت اور برآمدی قیمتوں سے جوڑتا ہے، جبکہ گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ بل میں چھوٹے فی یونٹ اضافے بھی مجموعی ادائیگی میں نمایاں فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
نیپرا کا فیصلہ کسی مستقل بنیادی ٹیرف میں 2.58 روپے کے یکساں اضافے کے مترادف نہیں بلکہ مختلف مدتوں کے لیے دو ایڈجسٹمنٹ اجزا کا مجموعہ ہے۔ ستمبر کے بعد فیول ایڈجسٹمنٹ کی موجودہ قسط ختم ہو جائے گی، جبکہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 52 پیسے فی یونٹ کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اکتوبر اور نومبر تک جاری رہے گی۔ صارفین کو اپنے بل میں متعلقہ چارج کی نوعیت اور قابل اطلاق مدت الگ طور پر دیکھنا ہوگی۔




