وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ایگزم بینک) کی جانب سے 3 ارب روپے کے رسک پول کے ذریعے برآمدی کریڈٹ انشورنس کی رسائی بڑھانے کے اقدام کو ملکی برآمدات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ لاہور میں ای ڈی ایف سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سہولت کا خاص فائدہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو پہنچ سکتا ہے، جنہیں بیرونی منڈیوں میں ادائیگی کے خطرات اور مالی تحفظ کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق 3 ارب روپے کا رسک پول برآمد کنندگان، بالخصوص ایس ایم ایز، کے لیے کریڈٹ انشورنس کی دستیابی کو وسیع کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ برآمدی شعبے کی معاونت اور نجی کاروبار کے لیے مالی خطرات میں کمی حکومت کی برآمدات پر مبنی معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے ای ڈی ایف میں اصلاحات اور ادارے کی قیادت میں نجی شعبے کے پیشہ ور افراد کی شمولیت کو بھی سراہا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ای ڈی ایف کے پاس دستیاب مجموعی 24 ارب روپے کاروباری برادری کی سہولت اور سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اضافی انفراسٹرکچر اخراجات سے گریز کیا جائے گا۔ فنڈ کی سرگرمیوں میں تحقیق، ہنر مندی کی ترقی اور پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ حکام نے یورپی منڈی تک پاکستان کی ترجیحی رسائی برقرار رکھنے کے لیے جی ایس پی پلس انتظام کے تسلسل سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ برآمدی انشورنس کا نظام ایسے کاروباروں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو نئے خریداروں یا نئی منڈیوں میں داخل ہونے کے دوران عدم ادائیگی کے تجارتی خطرے کا سامنا کرتے ہیں۔ تاہم رسک پول کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انشورنس مصنوعات کن شرائط، پریمیم اور اہلیت کے معیار کے تحت دستیاب کی جاتی ہیں اور کتنی بڑی تعداد میں ایس ایم ایز ان تک رسائی حاصل کر پاتی ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، وزیر مملکت برائے خزانہ، ای ڈی ایف بورڈ کے چیئرمین اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔




