اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی صارفین پر اضافی لاگت منتقل کرنے کے دو الگ فیصلوں کی منظوری دی ہے، جن میں جولائی 2026 کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ان فیصلوں سے صارفین پر تقریباً 45.6 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا تخمینہ ہے۔
نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.0581 روپے فی کلوواٹ آور اضافی وصولی کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ رقم ستمبر 2026 کے بلوں میں شامل کی جائے گی۔ اس فیصلے کا اطلاق کے-الیکٹرک اور سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کے بیشتر صارفین پر ہوگا، تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور بعض پری پیڈ صارفین کو اس ایڈجسٹمنٹ سے استثنا دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نیپرا نے تقریباً 0.5194 روپے فی یونٹ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ رقم ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 کے دوران وصول کی جائے گی۔ ریگولیٹر کے مطابق اس ایڈجسٹمنٹ کا تعلق کپیسٹی چارجز، متغیر آپریشن و مینٹیننس اخراجات، سسٹم استعمال فیس، مارکیٹ آپریٹر فیس اور دیگر متعلقہ مدات سے ہے۔
ڈان کے مطابق جولائی کے فیول ایڈجسٹمنٹ کا بڑا حصہ مہنگی اسپاٹ ایل این جی خریداری کے اثر سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم صارفین پر حتمی اثر ان کے استعمال، متعلقہ ٹیرف کیٹیگری اور استثنا کی اہلیت کے مطابق مختلف ہوگا۔ اس لیے 2.58 روپے فی یونٹ کو ہر صارف کے پورے بل پر یکساں مستقل اضافہ سمجھنا درست نہیں؛ یہ مختلف ایڈجسٹمنٹس کا مجموعی اثر ہے جو مخصوص مہینوں میں وصول کیا جائے گا۔
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں کا ایک حصہ ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے ایندھن کی لاگت میں تبدیلی کے مطابق منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بجلی خریداری اور نظام کے دیگر اخراجات میں فرق کا حساب کرتی ہے۔ ان فیصلوں کے باعث ستمبر میں صارفین کو نسبتاً زیادہ بلوں کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وصولی جاری رہے گی۔
نیپرا کا فیصلہ ایک ریگولیٹری حکم ہے، نہ کہ کسی نجی کمپنی کا تخمینہ۔ اس خبر میں شامل مالی اعداد نیپرا کے فیصلے اور معتبر میڈیا رپورٹنگ پر مبنی ہیں، اور کسی صارف کے انفرادی بل کی رقم اس کے استعمال اور کیٹیگری کے مطابق مختلف رہ سکتی ہے۔




