اسلام آباد: مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہوا، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں نمایاں کمی اور برآمدات میں معتدل اضافہ رہا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی میں خطے سے درآمدات سال بہ سال 44.3 فیصد کم ہو کر 879.98 ملین ڈالر رہیں، جبکہ ایک سال قبل اسی ماہ یہ حجم 1.578 ارب ڈالر تھا۔
اسی عرصے میں مشرق وسطیٰ کو پاکستانی برآمدات 5.6 فیصد بڑھ کر 271.60 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال جولائی میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ برآمدی بہتری زیادہ تر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن میں دیکھی گئی، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کو برآمدات میں کمزوری رپورٹ ہوئی۔
درآمدات میں کمی کا بڑا حصہ توانائی سے متعلق خریداری میں گراوٹ سے جڑا رہا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پیٹرولیم اور ایل این جی کی درآمدات نمایاں طور پر کم کیں۔ پاکستان کی خلیجی درآمدات میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا حصہ بدستور غالب ہے، جبکہ قطر، کویت، عمان اور بحرین نسبتاً چھوٹے مگر اہم سپلائر ہیں۔
ملکی اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات جولائی میں تقریباً 4.5 فیصد بڑھیں، جبکہ وہاں سے درآمدات 20 فیصد سے زیادہ کم ہوئیں، جس سے دوطرفہ تجارتی خسارہ سکڑا۔ متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا اور وہاں سے درآمدات 36.4 فیصد کم ہوئیں۔ قطر سے درآمدات میں تقریباً 78 فیصد اور کویت سے درآمدات میں قریب 97 فیصد کمی رپورٹ کی گئی، جو توانائی خریداری میں تیز گراوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔
بحرین کے ساتھ رجحان مختلف رہا، جہاں پاکستانی برآمدات کم ہوئیں جبکہ درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اردن کے ساتھ برآمدات اور درآمدات دونوں میں اضافہ ہوا، مگر مجموعی حجم نسبتاً محدود رہا۔
یہ اعداد ایک ماہ کی تجارت کی تصویر پیش کرتے ہیں، اس لیے انہیں پورے مالی سال کے رجحان کا حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی توانائی قیمتوں، علاقائی جغرافیائی سیاسی حالات، درآمدی طلب، شرح مبادلہ اور ادائیگیوں کے توازن میں تبدیلی آنے والے مہینوں میں تجارتی اعداد پر اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ خبر کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ جولائی 2026 میں خلیجی خطے سے درآمدات میں تیز کمی اور برآمدات میں محدود اضافہ ہونے سے پاکستان کا علاقائی تجارتی خسارہ کم ہوا۔




