اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی صارفین سے تقریباً 46 ارب روپے کی اضافی وصولی کی منظوری دے دی ہے۔ ریگولیٹر کے جاری کردہ فیصلوں کے مطابق جولائی 2026 کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2 روپے 5 اعشاریہ 81 پیسے فی یونٹ ستمبر کے بلوں میں وصول کیے جائیں گے، جبکہ 51 اعشاریہ 94 پیسے فی یونٹ کی مثبت سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے دوران نافذ رہے گی۔
نیپرا کے مطابق جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سے صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ رپورٹ میں اس اضافے کی بڑی وجہ اسپاٹ مارکیٹ سے نسبتاً مہنگی مائع قدرتی گیس کی خریداری بتائی گئی ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ کے الیکٹرک اور سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر لاگو ہوگی، تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ میٹر استعمال کرنے والے صارفین اس ماہانہ وصولی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ جولائی میں پیدا ہونے والی بجلی کے اصل ایندھن اخراجات اور پہلے سے طے شدہ لاگت کے فرق کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ریگولیٹری نظام کے تحت ایسے فرق کو عموماً بعد کے کسی ایک ماہ کے بلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ نیپرا نے تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ جولائی 2026 کی منظور شدہ رقم ستمبر کے بلوں میں ظاہر کی جائے۔
اس کے ساتھ 51 اعشاریہ 94 پیسے فی یونٹ کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے مزید تقریباً 12 ارب 67 کروڑ روپے وصول کیے جائیں گے۔ یہ رقم صلاحیتی ادائیگیوں، آپریشن اور دیکھ بھال کے متغیر اخراجات، نظام کے استعمال کے چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس اور ترسیلی و تقسیمی نقصانات سمیت مختلف مدات میں فرق کی بنیاد پر منظور کی گئی ہے۔ سہ ماہی رقم تین ماہ میں یکساں شرح سے وصول ہوگی۔
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے معاملے میں لائف لائن، پری پیڈ اور انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت بل کیے گئے یونٹس کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ دیگر گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کو ستمبر میں ماہانہ اور سہ ماہی دونوں ایڈجسٹمنٹس کا سامنا ہوگا، جس سے بنیادی نرخ کے علاوہ مجموعی اضافی شرح تقریباً 2 روپے 58 پیسے فی یونٹ بنتی ہے۔ اکتوبر اور نومبر میں صرف سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی 52 پیسے فی یونٹ رقم جاری رہے گی۔
نیپرا کے فیصلے کا اثر صارف کے استعمال شدہ یونٹس کے مطابق مختلف ہوگا۔ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو اور کاروباری صارفین کے بلوں میں اضافی رقم نسبتاً زیادہ ہوگی۔ یہ اضافہ ایسے وقت نافذ کیا جا رہا ہے جب صارفین پہلے ہی بنیادی ٹیرف، ٹیکسوں اور دیگر سرچارجز کی ادائیگی کر رہے ہیں، اس لیے ستمبر کے بلوں میں دونوں ایڈجسٹمنٹس کو الگ مدات کے طور پر دیکھنا ضروری ہوگا۔




