نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی صارفین کے لیے دو الگ مثبت ٹیرف ایڈجسٹمنٹس منظور کی ہیں۔ پہلے فیصلے کے تحت جولائی 2026 کی کھپت پر 2 روپے 5.81 پیسے فی یونٹ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ ستمبر کے بلوں میں شامل ہوگی، جبکہ دوسرے فیصلے کے مطابق اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ 51.94 پیسے فی یونٹ کے یکساں نرخ سے ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے دوران وصول کی جائے گی۔
نیپرا کے 4 ستمبر کے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی میں بجلی کی اصل اوسط ایندھن لاگت 9.1511 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ منظور شدہ حوالہ جاتی لاگت 7.0929 روپے فی یونٹ تھی۔ دونوں کے فرق سے 2.0581 روپے فی یونٹ مثبت فیول چارج ایڈجسٹمنٹ نکالی گئی۔ یہ اضافہ جولائی میں استعمال کیے گئے یونٹس کی بنیاد پر بل میں الگ مد کے طور پر دکھایا جائے گا، خواہ صارف کو اس کی وصولی ستمبر یا، پہلے سے بل جاری ہونے کی صورت میں، بعد کے مہینے میں نظر آئے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگی۔ نیپرا نے لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین کو اس سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ اس کے برعکس انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت آنے والی کھپت پر جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ لاگو ہوگی۔ عدالتوں کے کسی متعلقہ حکم کی پابندی تقسیم کار کمپنیوں کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔
الگ سہ ماہی فیصلے میں نیپرا نے اپریل تا جون 2026 کے لیے مجموعی مثبت ایڈجسٹمنٹ 12 ارب 66 کروڑ 90 لاکھ روپے منظور کی۔ اس حساب میں صلاحیتی ادائیگیوں، متغیر آپریشن و دیکھ بھال، نظام استعمال چارج، مارکیٹ آپریٹر فیس، ترسیل و تقسیم نقصانات پر فیول ایڈجسٹمنٹ کے اثر اور بعض سابقہ اخراجات کی واپسی سمیت مختلف اجزا شامل ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں نے اس سے زیادہ رقم مانگی تھی، لیکن ریگولیٹر نے جانچ کے بعد کم قابلِ وصول رقم متعین کی۔
51.94 پیسے فی یونٹ کا سہ ماہی نرخ تین ماہ، یعنی ستمبر سے نومبر، تمام متعلقہ تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ اس مد میں لائف لائن صارفین، انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت بل کیے گئے یونٹس اور پری پیڈ صارفین مستثنیٰ ہیں۔ اس طرح انکریمنٹل پیکیج کی کھپت کے لیے فیول اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق یکساں نہیں: جولائی کا فیول فرق لاگو ہوگا مگر موجودہ سہ ماہی چارج سے وہ یونٹس مستثنیٰ ہیں۔
ڈان نے دونوں فیصلوں کے مالی اثر کو مجموعی طور پر تقریباً 45.6 ارب روپے بتایا ہے، جس میں جولائی فیول ایڈجسٹمنٹ کا اندازاً 33 ارب روپے اور سہ ماہی فیصلے کے 12.669 ارب روپے شامل ہیں۔ یہ مجموعی بوجھ پورا ایک ہی مہینے میں یکساں انداز سے نہیں آئے گا۔ ستمبر میں اہل صارفین کو جولائی کا 2.0581 روپے فی یونٹ فرق اور 51.94 پیسے سہ ماہی چارج دونوں نظر آسکتے ہیں، جبکہ اکتوبر اور نومبر میں صرف سہ ماہی مد جاری رہنے کی توقع ہے، بشرطیکہ کوئی دوسری نئی ایڈجسٹمنٹ الگ سے نافذ نہ ہو۔
فیول چارج ایڈجسٹمنٹ ماہانہ اصل ایندھن لاگت اور پہلے سے منظور شدہ حوالہ جاتی لاگت کا فرق ہے، جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ صلاحیتی اور دیگر نظامی اخراجات کی تبدیلی سے متعلق الگ طریقۂ کار ہے۔ دونوں کو بنیادی یکساں ٹیرف میں مستقل اضافہ سمجھنا درست نہیں، لیکن متعلقہ مدت میں صارف کے قابلِ ادائیگی بل میں اضافہ ضرور ہوتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ فیصلے 2.0581 روپے فی یونٹ جولائی فیول ایڈجسٹمنٹ اور 0.5194 روپے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ہیں۔ صارف اپنے بل میں جولائی کے استعمال شدہ یونٹس، استثنا کی اہلیت اور دونوں مدات کی الگ رقم دیکھ کر متعلقہ ڈسکو یا کے الیکٹرک سے کسی ممکنہ حسابی غلطی کی وضاحت طلب کرسکتا ہے۔




