اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے الیکٹرک کے لیے مالی سال 2024 سے مالی سال 2030 تک کے سات سالہ ملٹی ایئر ٹیرف نظام کے تحت اوسط بنیادی ٹیرف 32.37 روپے فی یونٹ نوٹیفائی کر دیا ہے۔ یہ شرح نیپرا کی ابتدائی طور پر مقرر کردہ 39.97 روپے فی یونٹ شرح سے 7.60 روپے، یعنی تقریباً 19 فیصد کم ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیپرا نے گزشتہ سال مختلف فریقوں کی نظرثانی درخواستوں پر ابتدائی تعین میں تبدیلی کی تھی۔ ان فریقوں میں پاور ڈویژن، جماعت اسلامی، کراچی کے صنعت کار اور خود کے الیکٹرک شامل تھے۔ مالی سال 2024 کے لیے 32.37 روپے کا بنیادی ٹیرف بعد کے چھ برسوں میں مہنگائی اور شرح مبادلہ میں تبدیلی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ تعین سے سات سال کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کو قابلِ ادائیگی سبسڈی میں تقریباً 200 ارب روپے کمی متوقع ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق کمپنی کی مؤثر شرح منافع بھی پہلے تعین کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔
کے الیکٹرک نے نظرثانی شدہ ملٹی ایئر ٹیرف کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں سے معاملہ متعلقہ قانونی فورم یعنی نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل کو بھیجا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹریبونل نے کمپنی کی اپیلیں مسترد کر دیں، جس کے بعد نیپرا نے متعلقہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیے۔
نیپرا نے واضح کیا ہے کہ کراچی کے صارفین سے براہِ راست یہی 32.37 روپے فی یونٹ شرح وصول نہیں کی جائے گی۔ وفاقی پالیسی کے تحت کے الیکٹرک کے صارفین دوسرے بجلی تقسیم کار اداروں کے صارفین کی طرح یکساں ٹیرف ادا کرتے رہیں گے۔ اس لیے ریگولیٹری تعین کا فوری اثر صارف کے بل کی بنیادی شرح کے بجائے حکومتی سبسڈی اور کے الیکٹرک کے مالی فریم ورک پر زیادہ نمایاں ہوگا۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے فیصلے کو کمپنی کے مالی استحکام کے لیے منفی قرار دیا اور کہا کہ اپیلیٹ ٹریبونل کا تحریری حکم موصول ہونے کے بعد دستیاب قانونی راستوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مؤقف کی حتمی قانونی حیثیت آئندہ عدالتی یا اپیلیٹ کارروائی سے واضح ہوگی۔ نیپرا کا نوٹیفکیشن فی الحال ریگولیٹری فریم ورک میں نئی شرح نافذ کرتا ہے، تاہم اعلیٰ قانونی فورم سے کسی ممکنہ حکم کی صورت میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔

