اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے حکومت کو آئندہ 800 میگاواٹ قابلِ تجدید بجلی کی وہیلنگ نیلامی میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، بی ای ایس ایس، لازمی قرار دینے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق شمسی اور ہوائی بجلی کے ان منصوبوں پر ہوگا جو مسابقتی نیلامی میں حصہ لیں گے۔
نیپرا کی منظور کردہ ترامیم کے تحت ہر اہل بولی دہندہ کو اپنے شمسی یا ہوائی پیداواری منصوبے کے مقام پر بیٹری ذخیرہ نصب کرنا ہوگا۔ بیٹری کی فرم صلاحیت متعلقہ منصوبے کی فرم پیداواری صلاحیت کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہونا ضروری ہوگی۔ شرکا اس کم از کم حد سے زیادہ ذخیرہ بھی نصب کرسکیں گے، لیکن 10 فیصد سے کم صلاحیت رکھنے والی پیشکش نیلامی میں شرکت کی بنیادی شرط پوری نہیں کرے گی۔
یہ شرط انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر، آئی ایس ایم او، کی درخواست پر وہیلنگ آکشن کے طریقۂ کار میں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی ہے۔ منظوری کے بعد آئی ایس ایم او کو پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے لیے درخواستِ تجاویز، آر ایف پی، جاری کرنے کا راستہ مل گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے کا آر ایف پی ستمبر کے دوران جاری کرنے کی تیاری ہے، جبکہ مجموعی منصوبہ جاتی نیلامی کی علامتی گنجائش 800 میگاواٹ رکھی گئی ہے۔
پہلی نیلامی میں دلچسپی رکھنے والے فریقوں کو آر ایف پی جاری ہونے کے دو ماہ کے اندر تجاویز جمع کرانا ہوں گی اور یہ مدت مقررہ و ناقابلِ توسیع ہوگی۔ بعد کی نیلامیوں کے لیے تجاویز جمع کرانے کی مدت ایک ماہ ہوگی۔ پہلے مرحلے کے لیے نسبتاً زیادہ وقت اس لیے رکھا گیا ہے کہ نئے طریقۂ کار اور بیٹری ذخیرے کی شرط کے باعث ممکنہ شرکا کو تکنیکی و مالی تیاری درکار ہوسکتی ہے۔
منظور شدہ تبدیلیوں میں شکایات کے ازالے کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی شامل ہے۔ کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر رکن ہوں گے۔ الگ فورم بنانے کا مقصد اہلیت کی جانچ کرنے والی نیلامی کمیٹی اور شکایات سننے والے ادارے کے درمیان مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کو کم کرنا ہے۔
بیٹری ذخیرے کی شرط کا بنیادی جواز قومی گرڈ میں بڑھتا ہوا ’ڈک کرو‘ مسئلہ بتایا گیا ہے۔ دن کے وقت شمسی پیداوار بڑھنے سے گرڈ سے طلب کم ہوجاتی ہے، لیکن شام میں سورج غروب ہوتے ہی صارفین بڑی تعداد میں دوبارہ گرڈ پر آتے ہیں اور طلب اچانک بڑھتی ہے۔ بیٹریاں دوپہر کی اضافی بجلی محفوظ کرکے شام کے اوقات میں فراہم کرسکتی ہیں، جس سے پیداوار میں کٹوتی، گرڈ کے اتار چڑھاؤ اور فوری طلب کے دباؤ کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آئی ایس ایم او کی ماڈلنگ کے مطابق بیٹری صلاحیت ایک حد تک بڑھانے سے منصوبوں کی مالی افادیت بھی بہتر ہوسکتی ہے، تاہم حقیقی لاگت، بولی کی قیمت، بیٹری کی مدتِ کار اور نیلامی کے حتمی نتائج ہر منصوبے کے کاروباری ماڈل پر منحصر ہوں گے۔ نیپرا کی منظوری ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق ہے؛ اس سے ابھی کسی خاص کمپنی کو معاہدہ یا پیداواری لائسنس نہیں ملا۔ حتمی بولیاں، قیمتیں اور کامیاب منصوبے نیلامی کے آئندہ مراحل میں طے ہوں گے۔




