اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے صارفین کے لیے ماہانہ فیول چارجز اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے متعلق دو فیصلے جاری کیے ہیں جن کا مجموعی حساب تقریباً 2 روپے 58 پیسے فی یونٹ بنتا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق جولائی 2026 کی بجلی پر ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ تقریباً 2 روپے 6 پیسے فی یونٹ جبکہ اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ تقریباً 52 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔

ماہانہ ایڈجسٹمنٹ جولائی میں بجلی پیدا کرنے کے حقیقی ایندھن اخراجات اور پہلے سے مقرر حوالہ لاگت کے فرق کی بنیاد پر طے کی گئی۔ نیپرا کی دستاویز کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ نے جولائی کے لیے درخواست دی تھی اور 27 اگست کو عوامی سماعت ہوئی۔ سماعت میں پاور ڈویژن، نیشنل گرڈ کمپنی، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ ریگولیٹر نے درخواست، پیداواری اعداد اور سابقہ مالی ایڈجسٹمنٹس کا جائزہ لینے کے بعد قابلِ وصول رقم مقرر کی۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ سے صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ یہ رقم ستمبر 2026 کے بلوں میں ظاہر کی جائے گی۔ نیپرا نے تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کو ہدایت دی ہے کہ وصولی کرتے وقت متعلقہ عدالتی احکامات کی پابندی یقینی بنائی جائے۔ لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے بعض صارفین کو جاری کردہ شرائط کے مطابق استثنا حاصل ہوگا۔

دوسرا فیصلہ اپریل تا جون 2026، یعنی کیلنڈر سال کی دوسری سہ ماہی، کے دوران استعداد، ترسیل، متغیر آپریشن و دیکھ بھال اور دیگر منظور شدہ اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ہے۔ تقریباً 52 پیسے فی یونٹ کی یہ سہ ماہی رقم ستمبر سے نومبر 2026 تک وصول کیے جانے کی منظوری دی گئی ہے اور اس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی بتایا گیا ہے۔ اس مد میں صارفین پر تقریباً 12 ارب 67 کروڑ روپے کا مالی اثر متوقع ہے۔ سہ ماہی فیصلے کو ضروری حکومتی کارروائی کے لیے وفاقی حکومت کو بھیجا گیا ہے، اس لیے عملی بلنگ متعلقہ نوٹیفکیشن اور نیپرا کی شرائط کے مطابق ہوگی۔

دونوں ایڈجسٹمنٹس کو یکجا کرنے سے مجموعی وقتی اضافہ تقریباً 2 روپے 58 پیسے فی یونٹ اور مالی اثر 45 ارب 60 کروڑ روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ تاہم یہ مستقل بنیادی ٹیرف میں یکساں اضافہ نہیں بلکہ الگ مدتوں اور اخراجات سے متعلق ایڈجسٹمنٹس ہیں۔ صارف کے حقیقی بل پر اثر استعمال شدہ یونٹس، صارف کی کیٹیگری، استثنا کی اہلیت، ٹیکسوں اور بلنگ کے مہینے پر منحصر ہوگا۔

نیپرا کے فیصلے میں جولائی کے پیداواری مکس، درآمدی ایندھن کی قیمت، بعض بجلی گھروں کی پیداوار اور سابقہ ایڈجسٹمنٹس کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔ ریگولیٹر نے بعض دعوؤں میں کٹوتی یا مزید دستاویزی مفاہمت کی ہدایت کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ درخواست کردہ اور حتمی منظور شدہ رقم ایک جیسی ہونا ضروری نہیں۔ صارفین کو اپنے ستمبر کے بل میں ماہانہ اور سہ ماہی مدات الگ دیکھنی چاہییں اور کسی اختلاف کی صورت میں متعلقہ تقسیم کار کمپنی یا نیپرا کے مقررہ شکایتی نظام سے رجوع کرنا ہوگا۔