اسلام آباد: پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی کی پیمائش کرنے والا حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) 3 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.65 فیصد بڑھ کر 363.42 پوائنٹس ہو گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سرکاری اعداد کے مطابق گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں اشاریہ 8.35 فیصد بلند رہا۔ ہفتہ وار اضافے میں سب سے نمایاں حصہ پیاز کی قیمت کا تھا، جو ایک ہی ہفتے میں اوسطاً 26.30 فیصد بڑھی۔

پی بی ایس کے مطابق نگرانی میں شامل 51 ضروری اشیا میں سے 17، یعنی تقریباً ایک تہائی، کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ سات اشیا سستی ہوئیں اور 27 کی اوسط قیمت میں تبدیلی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ پیاز کے بعد ٹماٹر 2.55 فیصد، آلو 0.96 فیصد، پیٹرول 0.90 فیصد، گندم کا آٹا 0.88 فیصد اور مرغی 0.85 فیصد مہنگی ہوئی۔ ماش کی دال، لہسن، سرسوں کے تیل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں بھی نسبتاً محدود اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سستی ہونے والی اشیا میں کیلے کی قیمت 2.54 فیصد، مونگ کی دال 0.69 فیصد، ایل پی جی 0.45 فیصد، چینی 0.18 فیصد اور انڈے 0.11 فیصد کم ہوئے۔ چنے کی دال اور گڑ کی اوسط قیمت میں بھی معمولی کمی آئی۔ یہ قومی سطح کے منتخب بازاروں کی اوسط تبدیلیاں ہیں؛ کسی ایک شہر، دکان یا ضلع میں صارف کو درپیش قیمت اس اوسط سے مختلف ہو سکتی ہے۔

اخراجاتی گروپوں کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتہ وار اضافہ سب سے کم آمدنی والے شمار شدہ گروپ پر نسبتاً زیادہ رہا۔ ماہانہ 17 ہزار 732 روپے تک اخراجات رکھنے والے گھرانوں کے لیے اشاریہ 0.91 فیصد بڑھا۔ اگلے گروپوں میں اضافہ بالترتیب 0.83، 0.71 اور 0.68 فیصد رہا، جبکہ سب سے بلند اخراجاتی گروپ میں 0.58 فیصد اضافہ ہوا۔ اس فرق کی ایک وجہ یہ ہے کہ کم آمدنی والے گھرانوں کے بجٹ میں خوراک اور روزمرہ ضروریات کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔

سالانہ تقابل میں پیاز 162.75 فیصد، ایل پی جی 53.61 فیصد، ڈیزل 37.70 فیصد اور پیٹرول 31.01 فیصد مہنگا رہا۔ کم استعمال والے بجلی صارفین کے شمار شدہ چارجز میں 25.24 فیصد اور آٹے میں 16.86 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ اس کے برعکس آلو 31.61 فیصد، مرغی 23.50 فیصد، چینی 19.38 فیصد اور انڈے 18.18 فیصد گزشتہ سال کے مقابلے میں سستے بتائے گئے۔ ایک ہی اشیا میں ہفتہ وار اور سالانہ سمت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے دونوں تقابل الگ رکھنا ضروری ہے۔

ایس پی آئی 2015-16 کو بنیادی سال بنا کر 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیا کی قیمتوں پر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ پورے صارف قیمت اشاریے کا متبادل نہیں، کیونکہ ماہانہ سی پی آئی میں اشیا اور خدمات کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ موجودہ 0.65 فیصد اضافہ صرف ایک ہفتے کی اوسط نقل و حرکت دکھاتا ہے؛ پائیدار رجحان کا تعین آنے والے ہفتوں، رسد، موسمی حالات، ایندھن نرخوں اور زرعی منڈیوں کے اعداد سے ہوگا۔