مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یا اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کے منگل کو ہونے والے انتخابات میں حملوں کے ذریعے خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اسرائیل سخت جواب دے گا۔ یہ بیان انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں سامنے آیا ہے، جہاں نیتن یاہو قومی سلامتی اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنا رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ اسرائیلی حکام کے پاس ایسے انٹیلی جنس اشارے ہیں جن کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے حملوں کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج دفاعی اور جارحانہ دونوں نوعیت کی کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔ تاہم رپورٹ میں ان مبینہ انٹیلی جنس اشاروں کی آزادانہ تفصیل یا ثبوت فراہم نہیں کیے گئے، اس لیے اسے اسرائیلی وزیراعظم کا سرکاری دعویٰ سمجھا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے انتخابی مہم میں فروری میں امریکا کے ساتھ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور اس کے بعد کی علاقائی کشیدگی کو اپنی سکیورٹی پالیسی کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے بارے میں کئی سخت بیانات دیے ہیں اور اپنے حامیوں کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مضبوط سکیورٹی قیادت ضروری ہے۔
اتوار کو انہوں نے ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر بھی پوسٹ کی جس میں تل ابیب پر مشروم کلاؤڈ دکھایا گیا تھا۔ اس پوسٹ کے ساتھ ایران کو اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ قرار دینے والا متن شامل تھا۔ چند روز قبل نیتن یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو ایران کی مذہبی حکومت گرانے سے متعلق ہدایت دی ہے، جبکہ ایک الگ ویڈیو میں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کرتے دکھائی دیے تھے۔
اسرائیل میں انتخابات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب ایران، امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان کشیدگی نے سکیورٹی ماحول کو غیر معمولی طور پر حساس بنا رکھا ہے۔ انتخابی مہم میں داخلی سیاسی اور معاشی معاملات کے ساتھ جنگ، علاقائی سلامتی اور ایران سے متعلق پالیسی بھی نمایاں موضوعات ہیں۔
نیتن یاہو کے تازہ انتباہ کے بعد فوری طور پر ایران کی جانب سے اس مخصوص الزام پر کوئی جواب رپورٹ نہیں ہوا۔ کسی ممکنہ انتخابی مداخلت یا حملے کے بارے میں حتمی نتیجہ آزاد شواہد یا عملی پیش رفت کے بغیر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے انتخابات سے قبل ایران اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا اور فوجی تیاری کا دعویٰ کیا ہے۔

