بلغراد: سربیا میں اتوار کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی، جہاں تقریباً دو سال سے جاری طلبہ کی احتجاجی تحریک طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے الیگزینڈر ووچچ اور ان کی سربین پروگریسو پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن گئی ہے۔ ووچچ نے ستمبر میں پارلیمنٹ تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا اور اس انتخاب کو ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ کے سخت ترین مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
طلبہ تحریک کا آغاز 2024 میں نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ مظاہرین نے اس سانحے کو بدعنوانی، ناقص نگرانی اور حکومتی احتساب کے وسیع تر مسائل سے جوڑا۔ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے، مگر احتجاج بتدریج ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوا جسے مختلف شہری حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی۔
رائے عامہ کے جائزوں میں مقابلہ سخت دکھائی دیا۔ جمعرات کو شائع ہونے والے ایک Ipsos سروے میں ووچچ کی سربین پروگریسو پارٹی کو 47 فیصد اور طلبہ کی حمایت یافتہ فہرست کو 40 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ بعض دیگر سرویز میں طلبہ کے امیدوار آگے دکھائے گئے۔ طلبہ کی 250 امیدواروں پر مشتمل فہرست میں یونیورسٹی اساتذہ، اداکار اور کسان شامل ہیں اور اس کی قیادت امراض قلب کے ماہر الیجا سردانووچ کر رہے ہیں۔
ووچچ، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پہلے وزیراعظم اور پھر صدر کے طور پر سربیا کی سیاست پر غالب رہے، اس انتخاب میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے میدان میں ہیں۔ ان کے حامی نئی شاہراہوں، ریلوے، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ان کی حکومت کا اہم کارنامہ قرار دیتے ہیں۔ ووچچ نے انتخابی مہم میں پنشن اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے، صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور نوجوان جوڑوں کے لیے سبسڈی کے وعدے کیے ہیں۔
طلبہ تحریک بدعنوانی کے خاتمے اور تعلیمی نظام میں بہتری کو مرکزی ایجنڈا بنا رہی ہے۔ حقوق کے کارکنوں نے احتجاجی دور میں مخالفین کے خلاف دباؤ اور سخت رویے کے الزامات لگائے، جنہیں ووچچ اور ان کی جماعت مسترد کرتے ہیں۔ ووچچ نے مظاہرین پر بیرونی حمایت کا الزام بھی لگایا ہے، جبکہ طلبہ اسے بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔
سربیا کی خارجہ پالیسی بھی انتخابی پس منظر کا اہم حصہ ہے۔ ووچچ نے چین اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے یورپی یونین میں شمولیت کا راستہ کھلا رکھا ہے، تاہم عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور بدعنوانی سے متعلق اصلاحات پر یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔ حتمی انتخابی نتیجہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا سربیا میں موجودہ سیاسی تسلسل برقرار رہتا ہے یا طلبہ تحریک پارلیمانی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی لاتی ہے۔
