ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ یکجہتی اور سعودی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ابوظبی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور مملکت اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے، امارات ان کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب کو حوثی میزائل حملوں کا سامنا ہے اور خلیجی ممالک کی جانب سے سلامتی کے معاملات پر باہمی حمایت کے پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔
اماراتی بیان میں بنیادی زور سعودی خودمختاری اور ریاستی سلامتی کے اصول پر دیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں حملوں سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان، میزائلوں کی تعداد، انہیں روکنے کی کارروائی یا حملوں کے مخصوص مقامات کی تفصیل شامل نہیں، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔ اسی طرح حوثیوں کے کسی تفصیلی جوابی مؤقف کا حوالہ بھی اس رپورٹ میں موجود نہیں ہے۔
متحدہ عرب امارات کا موقف سفارتی سطح پر سعودی عرب کے لیے واضح سیاسی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ خلیجی خطے میں کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کے اثرات صرف متعلقہ ملک کی داخلی سلامتی تک محدود نہیں رہتے بلکہ فضائی حدود، شہری پروازوں، توانائی کی تنصیبات اور علاقائی تجارت سے متعلق خدشات بھی بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ اماراتی بیان میں کسی نئی مشترکہ فوجی کارروائی یا علیحدہ عملی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس پیش رفت میں تصدیق شدہ نکتہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حوثی میزائل حملوں کی باضابطہ مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی کہا اور ریاض کے سلامتی اقدامات کی حمایت ظاہر کی ہے۔ خطے کی تیزی سے بدلتی صورت حال کے باعث حملوں کی مزید تفصیلات اور دوسرے ممالک کے ردعمل متعلقہ حکومتوں اور معتبر خبر رساں اداروں کے آئندہ بیانات سے واضح ہوں گے۔

