اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ نئی شاہراہوں کی انجینئرنگ، ڈیزائن اور روڈ سیفٹی بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی ماہرین کے ساتھ کام کیا جائے۔ ان کی زیر صدارت اجلاس میں این ایچ اے کے جاری اور مجوزہ منصوبوں، آمدن میں اضافے، سڑکوں کی حفاظت اور ترقیاتی پروگراموں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر مواصلات نے کہا کہ نئی شاہراہوں کی تعمیر میں بہتر انجینئرنگ کے ذریعے انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایم فور اور بعض دیگر شاہراہوں کے ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موٹرویز اور قومی شاہراہوں کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں این ایچ اے کے انجینئرنگ عملے کو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے فائدہ اٹھانے اور غیر ملکی ماہرین کی تکنیکی مہارت استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ اتھارٹی نے دو سال قبل مقرر کیا گیا آمدن بڑھانے کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور آئندہ نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے موجودہ آمدنی کے ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔

وزیر مواصلات کے مطابق آنے والے مہینوں میں لودھراں-ملتان ایکسپریس وے، پشاور ناردرن بائی پاس اور پنڈی بھٹیاں-فیصل آباد موٹروے کی توسیع سمیت اہم منصوبوں کے افتتاح متوقع ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ کراچی-کوئٹہ-چمن پاکستان ایکسپریس وے این 25 پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے۔

لاہور-گوجرانوالہ جی ٹی روڈ کی خراب حالت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور این ایچ اے کو فوری بہتری کے اقدامات کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس میں ایم 6 موٹروے کے لیے فنڈز، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے منصوبوں اور چاروں صوبوں میں جاری این ایچ اے اسکیموں پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق این ایچ اے ملک کے مجموعی روڈ نیٹ ورک کا نسبتاً چھوٹا حصہ سنبھالتا ہے، مگر قومی ٹریفک کا بڑا حصہ اسی نیٹ ورک سے گزرتا ہے۔

اجلاس میں بلوچستان میں این ایچ اے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت سے 108 ارب روپے کی فنڈنگ کے لیے رابطہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ یہ ہدایات اور منصوبے انتظامی و ترقیاتی مرحلے میں ہیں؛ ان کی تکمیل، لاگت اور شیڈول دستیاب فنڈنگ، تکنیکی منظوریوں، خریداری کے عمل اور تعمیراتی پیش رفت سے مشروط رہیں گے۔