وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا سالانہ ریونیو ہدف 66 ارب روپے سے بڑھا کر 160 ارب روپے کر دیا گیا ہے اور ادارے کی اپنی آمدن سے قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے منصوبوں پر اضافی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ لاہور میں اجلاس کے دوران انہوں نے این ایچ اے کی مالی کارکردگی، اخراجات اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔

وزیر کے مطابق ادارے کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے اور دستیاب وسائل کو تعمیر، مرمت اور توسیعی کاموں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کو چار سے چھ لین کرنے کا منصوبہ این ایچ اے کے پیدا کردہ اضافی ریونیو سے مکمل کیا جائے گا، جس کے لیے تقریباً 10 ارب روپے مختص کرنے کی بات کی گئی ہے۔

لاہور سیالکوٹ موٹروے پنجاب کے دو اہم صنعتی اور آبادی مراکز کو جوڑتی ہے۔ ٹریفک میں اضافے کے باعث اس کی گنجائش بڑھانے کا منصوبہ مسافروں کے سفر کے وقت، مال برداری اور صنعتی سپلائی چین کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ تاہم چھ لین توسیع کے عملی آغاز، تعمیراتی شیڈول اور مکمل ہونے کی تاریخ کا انحصار تکنیکی منظوریوں، خریداری کے عمل اور تعمیراتی مراحل پر ہوگا۔

این ایچ اے پاکستان کے قومی شاہراہ اور موٹروے نیٹ ورک کی تعمیر، دیکھ بھال اور ٹول ریونیو کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ ادارے کی آمدن میں اضافہ حکومت کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ زیادہ خود پیدا کردہ وسائل ترقیاتی منصوبوں پر وفاقی بجٹ کے براہ راست دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ریونیو اہداف میں بڑا اضافہ ٹول وصولی، اثاثوں کے بہتر استعمال اور مالی نظم و نسق کی مؤثر نگرانی کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

عبدالعلیم خان نے حکام کو مالی نظم، شفافیت اور منصوبوں کی بروقت تکمیل پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور این ایچ اے کو اپنی آمدن میں اضافے کے ساتھ صارفین کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا ہوگی۔

اعلان کردہ 160 ارب روپے کا ہدف مالی کارکردگی کے لیے ایک پیمانہ ہے، حتمی وصولی نہیں۔ مالی سال کے اختتام پر اصل ریونیو اور اخراجات سے واضح ہوگا کہ ادارہ یہ ہدف کس حد تک حاصل کرتا ہے اور اضافی وسائل میں سے کتنی رقم لاہور سیالکوٹ موٹروے سمیت منصوبوں پر عملی طور پر خرچ ہوتی ہے۔