اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس سے قبل مالیاتی منڈی میں پالیسی ریٹ میں اضافے کی توقع مضبوط ہوئی ہے۔ بینکاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں اور پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھنے سے مہنگائی کے خطرات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں، جس کے جواب میں مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔

ڈان کی 25 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق بعض بینکار تقریباً 100 بیسس پوائنٹس اضافے کو ممکن سمجھ رہے ہیں۔ یہ مارکیٹ کی توقع ہے، اسٹیٹ بینک کا پیشگی فیصلہ نہیں۔ حتمی پالیسی ریٹ مانیٹری پالیسی کمیٹی اپنے اجلاس میں مہنگائی، شرح مبادلہ، بیرونی کھاتوں، مالیاتی حالات اور معاشی سرگرمی سمیت دستیاب اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد طے کرے گی۔

پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل اور دیگر ایندھن پر نمایاں انحصار کرتا ہے۔ عالمی قیمتوں میں اضافہ براہ راست درآمدی بل کو بڑھا سکتا ہے اور نقل و حمل، بجلی، صنعت اور خوراک کی لاگت کے ذریعے عمومی مہنگائی پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر عالمی تیل کی قیمتیں طویل مدت تک بلند رہیں تو کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کی طلب پر بھی اضافی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

شرح سود میں اضافہ عمومی طور پر قرض لینے کی لاگت بڑھا کر طلب اور مہنگائی کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کاروباری فنانسنگ، سرمایہ کاری، تعمیرات اور صارف قرضوں کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کو قیمتوں کے استحکام اور معاشی نمو کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔

مارکیٹ کی توجہ اس بات پر بھی ہے کہ مرکزی بینک مستقبل کی مہنگائی کے بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے۔ صرف موجودہ افراط زر نہیں بلکہ توانائی کی عالمی قیمتیں، مالیاتی پالیسی، روپے کی قدر اور درآمدی حالات آنے والے مہینوں کی قیمتوں کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

26 اکتوبر کے فیصلے سے پہلے کسی مخصوص شرح سود کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی بات بینکاری اور مارکیٹ حلقوں کی توقع ہے۔ اصل فیصلہ اور اس کی وجوہ اسٹیٹ بینک کے باضابطہ مانیٹری پالیسی بیان سے واضح ہوں گی۔