پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کے لیے تیار کیے گئے کلسٹر وارہیڈ کا تجربہ کیا ہے، جسے ملک کے سرکاری تحقیقی اداروں نے نئے ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی جانچنے کا حصہ قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع کے مطابق تجربے میں نام نہاد ٹائپ-2 معیاری کلسٹر وارہیڈ کی تباہ کن صلاحیت اور اس کے ذیلی گولہ بارود کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا۔

شمالی کوریا کے دعوے کے مطابق وارہیڈ وسیع علاقے میں اثر پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کی آزمائش نے مطلوبہ تکنیکی اہداف حاصل کیے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کا وارہیڈ تقریباً 32 ایکڑ تک کے علاقے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے ہتھیار کی اصل کارکردگی اور عملی تعیناتی کی سطح کے بارے میں شمالی کوریا کے سرکاری اعداد کو اسی نسبت سے دیکھا جانا چاہیے۔

یہ تجربہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جزیرہ نما کوریا میں میزائل اور جوہری پروگرام کے باعث کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔ پیانگ یانگ حالیہ برسوں میں مختلف فاصلے اور کردار کے میزائل نظاموں کی آزمائش کرتا رہا ہے، جبکہ جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا ان تجربات کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ شمالی کوریا کا موقف ہے کہ اس کی فوجی تیاری امریکا اور اس کے اتحادیوں کی عسکری موجودگی کے مقابل دفاعی ضرورت ہے۔

کلسٹر وارہیڈ عام طور پر ایک بڑے وارہیڈ کے اندر متعدد چھوٹے دھماکا خیز اجزا لے جاتا ہے جو ہدف کے قریب پہنچ کر وسیع رقبے میں پھیل سکتے ہیں۔ ایسے ہتھیاروں کے انسانی اور شہری اثرات پر بین الاقوامی سطح پر طویل عرصے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور متعدد ممالک کلسٹر گولہ بارود سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کے فریق ہیں۔ شمالی کوریا اس کنونشن کا فریق نہیں ہے۔

تازہ تجربہ پیانگ یانگ کی اس کوشش کی ایک اور مثال ہے جس میں وہ اپنے مختصر فاصلے کے میزائلوں کے لیے مختلف نوعیت کے وارہیڈ اور میدان جنگ کی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔ تاہم کسی بھی نئے نظام کی حقیقی فوجی اہمیت کا انحصار اس کی قابل اعتماد پیداوار، نشانہ لگانے کی درستگی، لانچ پلیٹ فارم اور عملی یونٹس میں تعیناتی پر ہوتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ان تمام پہلوؤں کی مکمل آزادانہ تفصیل موجود نہیں۔

خطے میں اس پیش رفت پر ردعمل جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا کی آئندہ فوجی و سفارتی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام پر متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے، مگر پیانگ یانگ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔