اسلام آباد: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے شمالی وزیرستان میں مبینہ دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 15 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ فوجی بیان کے مطابق مشتبہ گروہ کی نقل و حرکت 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کی درمیانی شب سرحد کے اس پار دیکھی گئی، جس کے بعد اہلکاروں نے اسے روکنے کے لیے کارروائی کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مقابلہ تقریباً 36 گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران فورسز نے صبر اور پیشہ ورانہ انداز سے کارروائی کی۔ فوج نے مارے جانے والوں کو ریاستی اصطلاح ’فتنہ الخوارج‘ سے منسوب کیا، جو حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آزاد ذرائع سے تمام ہلاک افراد کی شناخت یا گروہی وابستگی کی الگ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ مقابلے کے بعد علاقے کی تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ کسی دوسرے عسکریت پسند کی موجودگی کا امکان ختم کرنے کے لیے کلیئرنس یا ’سینیٹائزیشن‘ آپریشن جاری ہے۔ بیان میں پاکستانی اہلکاروں کے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
آئی ایس پی آر نے مارے جانے والے عسکریت پسندوں کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس مخصوص واقعے سے متعلق نئی دہلی کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ بھارت ماضی میں پاکستان کی جانب سے عسکریت پسند گروہوں کی معاونت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس لیے مبینہ بیرونی سرپرستی کو پاکستانی فوج کا دعویٰ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ۔
فوج نے افغان طالبان حکومت پر بھی الزام لگایا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے اور مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ کابل کی جانب سے اس واقعے پر فوری جواب رپورٹ نہیں ہوا۔ افغان حکام عمومی طور پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جاتی۔
صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ بیانات میں کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں اور امن کے تحفظ کے لیے انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی فورسز کی پیشہ ورانہ تیاری کو سراہا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں مبینہ موجودگی بنیادی تنازع بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں حقیقی پیش رفت کے لیے افغان حکام کو مسلح گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔ سفارتی رابطے جاری رہنے کے باوجود سرحدی سلامتی پر دونوں جانب کے بیانات میں نمایاں اختلاف برقرار ہے۔
فوج نے کہا کہ کارروائی ’عزم استحکام‘ کے تحت جاری انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہے اور سرحدی علاقوں میں مزید نگرانی اور تلاشی کا عمل جاری رہے گا۔ واقعے سے متعلق دستیاب بنیادی معلومات آئی ایس پی آر کے بیان پر مبنی ہیں؛ مکمل عملی تفصیل، ہلاک افراد کے نام اور برآمد شدہ اسلحے کی فہرست عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی۔




