پشاور: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران آٹھ شدت پسند ہلاک ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، ریڈیو پاکستان اور ایکسپریس ٹریبیون نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق معلومات پر کی گئی۔
ذرائع کے مطابق آپریشن میں شدت پسندوں کے زیر استعمال ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے جبکہ ہلاک ہونے والوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد ہوا۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے ہلاک افراد کو ریاستی اصطلاح کے مطابق ’فتنہ الخوارج‘ سے منسلک قرار دیا، تاہم دستیاب رپورٹس میں ہر فرد کی شناخت، تنظیمی حیثیت یا کسی مخصوص حالیہ حملے میں مبینہ کردار کی الگ الگ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کارروائی کے دوران شدت پسندوں نے ایک مسجد کو آڑ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق فورسز نے مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں، اس لیے اسے سکیورٹی ذرائع سے منسوب معلومات کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
شمالی وزیرستان خیبرپختونخوا کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں حالیہ برسوں میں شدت پسندانہ سرگرمیوں، سرحد پار نقل و حرکت اور سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے آپریشنز کے بارے میں ابتدائی معلومات اکثر سرکاری یا سکیورٹی ذرائع کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں اور بعد میں مزید تفصیلات سامنے آسکتی ہیں۔
24 ستمبر کی اس کارروائی کے حوالے سے دستیاب معتبر پاکستانی ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ آٹھ افراد ہلاک ہوئے، اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا اور مشتبہ ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ تاہم آپریشن کے مقام کی انتہائی مخصوص جغرافیائی تفصیل، کسی سکیورٹی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع، اور ہلاک افراد کی مکمل شناخت موجودہ رپورٹنگ میں فراہم نہیں کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ کسی بھی ممکنہ مزید گرفتاری، شناخت یا آپریشن سے متعلق نئی معلومات متعلقہ اداروں کے باضابطہ بیانات کے بعد واضح ہوں گی۔

