شمالی وزیرستان: سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن کے دوران آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ مختلف پاکستانی خبر رساں اداروں نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارروائی میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد ہوا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی اس اطلاع کے بعد کی گئی کہ علاقے میں مسلح افراد موجود ہیں۔ سرکاری اصطلاح میں ہلاک ہونے والے افراد کو "فتنہ الخوارج" سے منسلک قرار دیا گیا، جو ریاست پاکستان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ خبر میں ان افراد کی شناخت یا انفرادی مقدمات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کارروائی کے دوران مسلح افراد نے ایک مسجد کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق فورسز نے مسجد کے تقدس اور عمارت کو نقصان سے بچانے کے لیے کارروائی میں احتیاط کی۔ دستیاب رپورٹس میں مسجد کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس دعوے کی تفصیلات بنیادی طور پر سرکاری سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا اور کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف محاذ پر ہے۔ شمالی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت پسند حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
یہ واقعہ ایک جاری سکیورٹی صورتحال کا حصہ ہے، تاہم اس مخصوص آپریشن کے بارے میں آزادانہ طور پر موقع سے تصدیق شدہ تفصیلات محدود ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد، برآمد شدہ اسلحے اور مبینہ وابستگی سے متعلق معلومات سکیورٹی ذرائع اور ریاستی میڈیا کے بیانات پر مبنی ہیں، جنہیں متعدد پاکستانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہے۔
