پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جیو نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارروائی کے دوران مبینہ ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے اور اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سازوسامان برآمد ہوا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اس گروہ سے تھا جسے سرکاری بیانات میں "فتنہ الخوارج" کہا جاتا ہے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کارروائی کے دوران شدت پسندوں نے ایک مسجد کو آڑ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، جبکہ فورسز نے مسجد کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے آپریشن کیا۔ ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے علیحدہ تصدیق اس رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے ہلاکتوں، تنظیمی وابستگی اور آپریشن کی مخصوص نوعیت کو سکیورٹی ذرائع کے دعوؤں کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان میں بھی سکیورٹی آپریشنز جاری ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ 21 ستمبر سے کوئٹہ کے علاقے شعبان سمیت مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان آپریشنز میں کیچ اور کوئٹہ ویسٹ کے علاقوں میں بھی فورسز نے مبینہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا۔

شمالی وزیرستان ماضی میں عسکریت پسندی، سرحد پار نقل و حرکت اور سکیورٹی کارروائیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ پاکستانی حکام بارہا افغانستان کی سرزمین پر موجود گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے بعض الزامات سے اختلاف کرتی رہی ہے۔

موجودہ آپریشن کے بارے میں جیو نیوز کی رپورٹ سکیورٹی ذرائع پر مبنی ہے اور فوری طور پر کسی تفصیلی آئی ایس پی آر بیان کا حوالہ موجود نہیں تھا۔ اس لیے کارروائی کے مقام، دورانیے، ہلاک افراد کی شناخت اور برآمد شدہ سازوسامان کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی۔ ایسی صورت میں کسی بھی اضافی دعوے کو باضابطہ سرکاری بیان یا آزاد تصدیق کے بغیر حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔

سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کا مقصد عسکریت پسند نیٹ ورکس، ان کے ٹھکانوں اور حملوں کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان کی تازہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتائی جا رہی ہے۔