پشاور: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق آٹھ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ 24 ستمبر کو ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون سمیت پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارروائی مشتبہ جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق معلومات ملنے کے بعد کی گئی۔

ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ان ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا جو مبینہ طور پر جنگجو استعمال کر رہے تھے، جبکہ ہلاک افراد کے قبضے سے ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ حکام نے ہلاک افراد کو ریاستی اصطلاح "فتنہ الخوارج" سے منسوب کیا، جو حکومت پاکستان کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ آزاد ذرائع سے ہلاک افراد کی شناخت یا ان کی تنظیمی وابستگی کی فوری تصدیق دستیاب نہیں تھی۔

سکیورٹی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران جنگجوؤں نے ایک مسجد کو آڑ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے عبادت گاہ کو نقصان سے بچایا۔ اس دعوے کی بھی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ رپورٹوں میں کارروائی کا مقام شمالی وزیرستان بتایا گیا، تاہم گاؤں یا مخصوص علاقے کی مزید تفصیل محدود رہی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا۔ شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز رپورٹ کیے گئے ہیں، جبکہ شدت پسند حملوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی اور پاکستان مخالف مسلح گروہوں کی مبینہ موجودگی پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان افغان طالبان حکومت پر بعض گروہوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ کابل ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔ شمالی وزیرستان کے اس آپریشن کو ان وسیع تر انسداد دہشت گردی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے مکمل سرکاری پریس ریلیز یا ہلاک افراد کی شناخت سامنے آنے کی صورت میں مزید تفصیلات واضح ہو سکتی ہیں۔