پشاور: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ منگل 6 اکتوبر کو سامنے آنے والی سرکاری اور سکیورٹی ذرائع پر مبنی رپورٹس کے مطابق کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق معلومات پر کی گئی اور فورسز نے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
ریاستی میڈیا کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔ ایک دوسری رپورٹ میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں مشتبہ نقل و حرکت کی نگرانی کے بعد کارروائی کی گئی۔ اسی رپورٹ میں دو دہشت گردوں کے زخمی ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ چونکہ زخمیوں سے متعلق تفصیل سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہے، اس لیے اسے اسی نسبت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے سرکاری بیانات میں ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر سرحدی اضلاع میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی ہیں۔ ہر کارروائی کے نتائج کے بارے میں آزادانہ تصدیق عموماً فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے ہلاکتوں اور آپریشن کی تفصیلات سرکاری یا سکیورٹی ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سرکاری رپورٹ کے مطابق کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو سراہا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ملک میں امن و سلامتی کے قیام تک جاری رہیں گی۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات، شناختوں یا کسی ممکنہ اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی کے بارے میں دستیاب تصدیق شدہ معلومات محدود ہیں، اس لیے غیر مصدقہ دعووں کو رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
