بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار ایک حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان کے مختلف حصوں میں ایک ہفتے پر محیط ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم جاری ہے۔

مقامی اور قومی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے پولیو ٹیم کی سکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ دستیاب ابتدائی معلومات میں حملہ آوروں کی شناخت یا گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے واقعے کی ذمہ داری کسی گروہ سے منسوب نہیں کی جا رہی۔ متعلقہ حکام کی تحقیقات اور سکیورٹی کارروائیوں کے بارے میں مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر صورت حال واضح ہو سکتی ہے۔

یہ واقعہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے دوران فرنٹ لائن ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو درپیش سکیورٹی خطرات کی ایک اور مثال ہے۔ پولیو مہمات کے دوران حساس علاقوں میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری تعینات کی جاتی ہے تاکہ ویکسینیشن ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں تک پہنچ سکیں۔

رپورٹ کے مطابق جاری مہم 115 اضلاع میں چلائی جا رہی ہے اور پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سرگرمیاں بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے زیادہ خطرے والے اور ہاٹ اسپاٹ علاقوں پر مرکوز ہیں۔

پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسینیشن کی مسلسل کوریج کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ سکیورٹی واقعات مہم کے عملے اور حفاظتی انتظامات کے لیے اضافی چیلنج پیدا کرتے ہیں۔ نوشکی کے واقعے کے بعد مقامی سطح پر سکیورٹی اور تفتیشی اقدامات متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہیں۔