بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار مسلح حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ 22 ستمبر 2026 کو اس وقت پیش آیا جب پولیو کارکن گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین کے قطرے پلا رہے تھے اور ان کی سکیورٹی کے لیے پولیس اہلکار تعینات تھے۔ حملہ آوروں نے اہلکاروں پر فائرنگ کی، تاہم ویکسینیشن ٹیم کے کارکن محفوظ رہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی اور ذمہ داروں کی تلاش شروع کردی گئی۔ فوری طور پر کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس مرحلے پر حملہ آوروں کی شناخت یا کسی مخصوص گروہ سے تعلق کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے واقعے کی ذمہ داری سے متعلق دعوؤں کو تحقیقات مکمل ہونے تک غیر مصدقہ سمجھا جائے گا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی وسیع مہم جاری ہے۔ حکومتی مہم کا ہدف تین کروڑ سے زیادہ بچوں تک ویکسین پہنچانا ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی ٹیمیں گھر گھر جا رہی ہیں، جہاں ماضی میں پولیو کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوشکی حملے کی مذمت کی اور جاں بحق اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ پولیو مہم کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد طبی ٹیموں کو ایسے علاقوں میں تحفظ فراہم کرنا ہے جہاں ویکسینیشن عملے کے خلاف حملوں کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی ترسیل ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے قومی و صوبائی سطح پر بار بار ویکسینیشن مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی قوتِ مدافعت بڑھائی جا سکے اور وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ توڑا جا سکے۔ نوشکی کا حملہ صحت عامہ کی مہمات کے ساتھ سکیورٹی کے چیلنج کو بھی دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔ حکام کی جانب سے تحقیقات کے نتائج اور ممکنہ گرفتاریوں سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر ہی حملے کے پس منظر کی حتمی تصویر واضح ہوگی۔

