نوشکی: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی سکیورٹی پر تعینات دو پولیس اہلکار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ منگل 22 ستمبر کو پیش آیا، جب پولیو کارکنوں کے ساتھ ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ نوشکی سٹی پولیس اسٹیشن نے جاں بحق اہلکاروں کی شناخت یاسر احمد اور عبدالروف کے نام سے کی ہے۔
جیو نیوز اور دی نیوز کی رپورٹوں کے مطابق مسلح حملہ آور فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں کے ہتھیار بھی لے گئے۔ فوری طور پر کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق نہیں کی اور پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں حتمی معلومات جاری نہیں کیں۔ اس لیے واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں سے متعلق کوئی بھی نسبت تفتیش مکمل ہونے سے پہلے غیر حتمی ہوگی۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ملک بھر میں انسداد پولیو مہم جاری ہے۔ رپورٹوں کے مطابق مہم 21 ستمبر سے شروع ہوئی اور 27 ستمبر تک جاری رہنے کا پروگرام ہے، جس کے دوران تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بلوچستان سمیت متعدد صوبوں اور وفاقی علاقوں کے زیادہ خطرے والے اضلاع میں ویکسینیشن ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں تک پہنچ رہی ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار ان ٹیموں کے ساتھ تعینات کیے جاتے ہیں۔
نوشکی میں تازہ حملہ پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے مسلسل چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں پولیو کارکنوں یا ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دی نیوز کے مطابق رواں سال مئی میں باجوڑ میں پولیو ٹیموں کی سکیورٹی سے متعلق الگ واقعات میں دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوشکی کے واقعے کی مذمت کی اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی پولیو ٹیموں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔ تاہم واقعے کی فوجداری تحقیقات، حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ موجودہ مصدقہ معلومات کے مطابق دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، حملہ آور فرار ہوگئے اور ان کی تلاش و تفتیش جاری ہے۔

