بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ 22 ستمبر 2026 کو پیش آیا، جب اہلکار جاری انسداد پولیو مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیم کے تحفظ کی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ شہید اہلکاروں کی شناخت یاسر احمد اور عبدالرؤف کے نام سے ہوئی ہے۔

نوشکی سٹی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دونوں اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اس لیے حملہ آوروں کی شناخت اور مقصد کے بارے میں حتمی بات نہیں کہی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں کارروائی شروع کر دی ہے، تاہم دستیاب اطلاعات میں کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک گیر انسداد پولیو مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس مہم میں تقریباً تین کروڑ دس لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو ماضی میں بھی حملوں کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے ویکسینیشن مہم کے دوران اضافی سکیورٹی تعینات کی جاتی ہے۔

رواں سال مئی میں خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پولیو ٹیموں کی سکیورٹی سے متعلق الگ الگ واقعات میں بھی دو پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔ نوشکی کا تازہ واقعہ اس خطرے کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے کہ صحت عامہ کی مہمات کو بعض حساس علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

حکومتِ پاکستان بارہا کہہ چکی ہے کہ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن مہم جاری رکھی جائے گی۔ تاہم نوشکی حملے کے بعد مقامی سطح پر سکیورٹی انتظامات، ٹیموں کی نقل و حرکت اور اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق مزید اقدامات کی ضرورت ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ اس مرحلے پر واقعے کو ایک تصدیق شدہ حملہ سمجھا جا رہا ہے، مگر ذمہ دار گروہ یا حملے کے پس منظر کے بارے میں تحقیقات مکمل ہونے تک کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔