اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پن سٹیک) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کمپنی کے منتخب کنوؤں سے حاصل ہونے والے پانی اور برائن میں لیتھیم، نایاب زمینی عناصر، قیمتی دھاتوں اور تابکار عناصر کی جدید لیبارٹری جانچ کی جائے گی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق معاہدے کی تقریب اسلام آباد میں ہوئی جس میں او جی ڈی سی ایل اور متعلقہ سائنسی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کمپنی کے مطابق پن سٹیک Inductively Coupled Plasma یا ICP پر مبنی عنصری پروفائلنگ کرے گا۔ اس پروگرام میں دو ہزار سے زائد نمونے جمع کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ مختلف کنوؤں میں لیتھیم اور دیگر critical minerals کی موجودگی اور مقدار کا تقابلی ریکارڈ تیار کیا جا سکے۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر کنوؤں کو معدنی ارتکاز کے لحاظ سے درجہ بندی کرنے اور زیادہ و کم ارتکاز والے علاقوں کی نقشہ بندی کرنے کا ارادہ ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ اس مشق سے ایک جامع جیوکیمیکل ڈیٹا بیس تیار ہوگا جو Direct Lithium Extraction، یعنی DLE، کی تکنیکی و تجارتی feasibility جانچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ مرحلہ بذاتِ خود تجارتی پیداوار یا کسی ثابت شدہ ذخیرے کے آغاز کا اعلان نہیں؛ نمونوں کی پروفائلنگ کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کن مقامات پر مزید جانچ یا استخراجی ٹیکنالوجی کا جائزہ قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ وحید بخش-01 نامی پائلٹ کنویں کے جیوتھرمل برائن میں 291 ملی گرام فی لیٹر لیتھیم کی مقدار کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے اس سطح کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں جیوتھرمل لیتھیم برائنز سے قابلِ موازنہ قرار دیا ہے، تاہم کسی ایک نمونے یا کنویں کی مقدار کو پورے علاقے کے قابلِ بازیافت ذخیرے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ تجارتی امکانات کے لیے مسلسل سیمپلنگ، ذخیرے کی پائیداری، extraction recovery، لاگت اور ماحولیاتی عوامل سمیت مزید تکنیکی جانچ درکار ہوگی۔
یہ منصوبہ او جی ڈی سی ایل کی روایتی تیل و گیس سرگرمیوں سے آگے معدنیات اور نئی توانائی کے شعبوں میں تنوع کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کمپنی ریکوڈک منصوبے میں حصص، بیرون ملک بلاکس اور shale و tight gas سے متعلق منصوبوں میں بھی شریک ہے۔ نئی پروفائلنگ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اس بات کا ابتدائی سائنسی فریم ورک فراہم کرے گا کہ تیل و گیس کے آپریشنز سے نکلنے والے produced water کو ممکنہ طور پر اہم معدنی وسائل کے لیے کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

