اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور کمی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول 6 روپے 59 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 25 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں کمی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی خوردہ قیمت 346 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 378 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتہ 7 نومبر سے ہوگا اور یہ 10 نومبر تک نافذ رہیں گی۔ اس مختصر مدت کی وجہ 9 نومبر کی سرکاری تعطیل بتائی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں قیمتوں میں مرحلہ وار کمی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب عالمی توانائی منڈی میں جنگ اور رسد سے متعلق خدشات کے باعث سال کے دوران تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت بدستور پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، روپے کی شرح مبادلہ اور سرکاری محصولات تینوں عوامل مقامی صارفین کے لیے حتمی قیمت کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

حکومت نے رواں ہفتے ایک 30 روزہ انتظام بھی متعارف کرایا تھا جس کے تحت آئل ریفائنریاں پیٹرولیم لیوی کے بوجھ میں مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا حصہ برداشت کریں گی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس انتظام سے صارفین تک پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 71 پیسے تک کمی منتقل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے یہ بھی کہا تھا کہ مائع پیٹرولیم گیس کے لیے اسی نوعیت کے انتظام پر کام کیا جا رہا ہے۔

سال کے آغاز کے مقابلے میں موجودہ نرخ اب بھی بلند ہیں، تاہم اپریل کی بلند ترین سطح سے نمایاں کمی آ چکی ہے۔ ڈان کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچا تھا، جبکہ پیٹرول اسی روز 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح پر تھا۔ تازہ کمی سے ٹرانسپورٹ، زرعی اور صنعتی لاگت پر کچھ دباؤ کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم اس کے حقیقی اثر کا انحصار آئندہ قیمتوں اور عالمی تیل منڈی کی صورت حال پر ہوگا۔